مشورہ

کلامِ مقدس دانشمندانہ مشورہ لینے اور اس پر عمل کرنے کی بھرپور ترغیب دیتا ہے اور کامیابی، حکمت اور راہنمائی میں اس کے کردار پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس، خدا ترس مشورے کو رد کرنا یا شریروں کے مشورے پر چلنا ناکامی، جھگڑے بلکہ تباہی جیسے بُرے نتائج لاتا ہے۔

مشورہ لینے کی حوصلہ افزائی

تاکہ دانا اُنہیں سُن کر اَپنی سمجھ میں اِضافہ کریں، اَور صاحبِ فہم ہدایت پائیں۔ (امثال 1:5)
اَور چونکہ تُم نے میری تمام مشورت کو نظرانداز کر دیا اَور میری تنبیہ کو قبُول نہ کیا، (امثال 1:25)
چونکہ اُنہیں میری صلاح پسند نہ آئی اَور اُنہُوں نے میری تنبیہ کو حقیر جانا، (امثال 1:30)
احمق کو اَپنی روِش دُرست نظر آتی ہے، لیکن دانشمند نصیحت کو سُنتا ہے۔ (امثال 12:15)
غُرور سے صِرف جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ صلاح مانتے ہیں اُن میں حِکمت پائی جاتی ہے۔ (امثال 13:10)
مشورت کو سُنو اَور اَپنی اِصلاح کرو، تاکہ آخِرکار تُم دانشمند ہو جاؤ۔ (امثال 19:20)
منصُوبے بنانے سے پہلے مشورہ کرو؛ اَور جنگ چھیڑنے سے قبل رہنمائی لو۔ (امثال 20:18)
عطر اَور لوبان دِل کو فرحت بخشتے ہیں، اِسی طرح دوست کی سچّی مشورت سے جان راحت پاتی ہے۔ (امثال 27:9)
ایک غریب عقلمند نوجوان بادشاہ کسی احمق بُوڑھے بادشاہ سے بہتر ہے جو خُود کو مشورت سے بے نیاز سمجھتا ہو۔ (واعظ 4:13)
اُسی وقت بعض فرِیسی یِسوعؔ کے پاس آئے اَور کہنے لگے، ”یہاں سے نکل کر کہیں اَور چلے جائیے کیونکہ ہیرودیسؔ آپ کو قتل کروانا چاہتاہے۔“ (لُوقا 13:31)

بہت سے مشیروں کی حوصلہ افزائی

ہدایت کے بغیر قوم گِر جاتی ہے، لیکن متعدّد مُشیر فتح کو یقینی بنا دیتے ہیں۔ (امثال 11:14)
اِرادے مشوروں کے بغیر ناکام ہو جاتے ہیں، لیکن صلاح کاروں کی کثرت سے وہ پُورے ہوتے ہیں۔ (امثال 15:22)
دانشمند اِنسان نہایت زورآور ہوتاہے، اَور صاحبِ علم کا زور بڑھتا رہتاہے؛ جنگ کرنے کے لیٔے رہنمائی کی ضروُرت ہوتی ہے، اَور مُشیروں کی کثرت فتحیابی کا باعث بنتی ہے۔ (امثال 24:5-6)

زیادہ لوگ پیداوار بڑھاتے ہیں

تُم میں سے پانچ شخص سَو کو اَور سَو دس ہزار کو کھدیڑ دیں گے، اَور تمہارے دُشمن تمہارے سامنے تلوار سے مارے جایٔیں گے۔ (اَحبار 26:8)
ایک سے بہتر دو ہوتے ہیں، کیونکہ اُنہیں اَپنے کام سے بڑا فائدہ ہوتاہے: اَور اگر اُن میں سے ایک نیچے گِر جائے تو، دُوسرا اَپنے دوست کو اُوپر اُٹھالے گا۔ لیکن افسوس اُس آدمی پرجو گرتا ہے اَور اُسے اُٹھانے والا کویٔی دُوسرہ مَوجُود نہیں ہوتا! اگر دو شخص اِکٹھّے سوتے ہیں تو دونوں گرم رہیں گے۔ لیکن اکیلا شخص خُود کو کیسے گرم رکھ سَکتا ہے؟ کویٔی اکیلا ہو تو وہ مغلُوب ہو سَکتا ہے، لیکن دو ہُوں تو وہ اَپنا تحفُّظ کر سکتے ہیں۔ جَیسا کہ کہاوت ہے تین تو اَور بہتر ہیں کیونکہ تین لڑیوں کی ڈوری آسانی سے نہیں توڑی جا سکتی۔ (واعظ 4:9-12)

مشورہ دینے/ماننے کی مثالیں

جَب اُن کے سسُر نے وہ سَب کچھ جو مَوشہ لوگوں کے لیٔے کر رہے تھے، دیکھا تو اُنہُوں نے کہا، ”یہ کیا ہے جو لوگوں کے لیٔے تُم کر رہے ہو؟ تمام لوگ صُبح سے شام تک تمہارے اِردگرد کھڑے رہتے ہیں تو کیا تُم اکیلے ہی اُن کا اِنصاف کرنے کو رہ گئے ہو؟“ مَوشہ نے جَواب دیا، ”اِس کا سبب یہ ہے کہ لوگ میرے پاس خُدا کی مرضی مَعلُوم کرنے آتے ہیں۔ اَور جَب کبھی اُن میں کویٔی جھگڑا ہوتاہے تو وہ اُسے لے کر میرے پاس آتے ہیں اَور مَیں فریقین کے درمیان اِنصاف کرتا ہُوں اَور اُنہیں خُدا کے قوانین اَور ہدایات کی باتیں بتاتا ہُوں۔“ مَوشہ کے سسُر نے جَواب دیا، ”جو کچھ تُم کر رہے ہو وہ ٹھیک نہیں۔ کیونکہ وہ لوگ جو تمہارے پاس آتے ہیں وہ تُمہیں اَور اَپنے آپ کو تھکا دیں گے۔ یہ کام تمہارے لیٔے بہت بھاری ہے اَور تُم اکیلے اِسے سنبھال نہیں سکتے۔ اَب تُم میری بات سُنو۔ میں تُمہیں صلاح دیتا ہُوں اَور خُدا تمہارے ساتھ رہے۔ تُمہیں چاہیے کہ تُم خُدا کے حُضُور لوگوں کی نُمائندگی کرو اَور اُن کے جھگڑے خُدا تک پہُنچا دو۔ تُم اُنہیں قوانین اَور ہدایات کی باتیں ماننا سِکھایا کرو اَور اُنہیں زندگی بسر کرنے کا طریقہ اَور وہ فرائض جو اُنہیں پُورے کرنے ہیں بتایا کرو۔ تُم اُن لوگوں میں سے حق پرست اِنسان چُن لو اَیسا اِنسان جو خُدا سے ڈرنے والا اَور مُعتبر ہُوں اَور رشوت کے دُشمن ہُوں اَور اُنہیں ہزار ہزار سَو سَو پچاس پچاس اَور دس دس افراد پر بطور حاکم مُقرّر کر دو تاکہ وہ ہر وقت لوگوں کا اِنصاف کریں لیکن ہر بڑا مُقدّمہ تمہارے پاس لائیں اَور صِرف آسان مُقدّموں کا فیصلہ وہ خُود کریں۔ اِس طرح تمہارا بوجھ ہلکا ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی اِس بوجھ کو اُٹھانے مَیں تمہارے شریکِ کار ہوں گے۔ اگر تُم اَیسا کرو اَور خُدا بھی تُمہیں اِس کا حُکم دیں تو تُم اِس بھاری بوجھ کو اُٹھا سکوگے اَور تمام لوگ بھی تسلّی کے ساتھ گھر چلے جایٔیں گے۔“ مَوشہ نے اَپنے سسُر کی بات مان لی اَور وَیسا ہی کیا جَیسا اُنہُوں نے بتایا تھا۔ (خُروج 18:14-24)
تَب ناتنؔ نے شُلومونؔ کی ماں بتشیبؔا سے دریافت کیا، ”کیا تُم نے نہیں سُنا کہ حگِیّت کا بیٹا ادُونیّاہؔ بادشاہ بَن بیٹھا ہے، اَور ہمارے آقا داویؔد کو یہ مَعلُوم نہیں ہے؟ اِس لیٔے اَب تُم میری صلاح سُنو کہ تُم اَپنی اَور اَپنے بیٹے شُلومونؔ کی جان کس طرح بچا سکتی ہو۔ (1 سلاطین 1:11-12)
”لوگ مُجھے سُننے کے متمنّی رہتے تھے، اَور میری مشورت کا اِنتظار کرتے تھے۔ میرے بولنے کے بعد وہ پھر نہ بولتے تھے؛ میری باتیں اُن کے کانوں پر بار نہ ہوتی تھیں۔ وہ میرا اَیسا اِنتظار کرتے تھے، جَیسے بارش کا، اَور میرے الفاظ اَیسے پی لیتے تھے جَیسے وہ بہار کی بارش کے قطرے ہیں۔ (ایُّوب 29:21-23)

مشورہ نہ دینے/نہ ماننے کی مثال

جَب اماضیاہؔ اِدُومیوں کے قتلِ عام سے واپس لَوٹا تو وہ وہاں سے بنی سِعِیؔر کے معبُودوں کے بُتوں کو ساتھ لے آیا اَور اُنہیں اَپنا معبُود بنا کر نصب کر دیا اَور اُن کی پرستش کرنے اَور اُن کے حُضُور بخُور جَلانے لگا۔ تَب یَاہوِہ کا قہر اماضیاہؔ کے خِلاف بھڑک اُٹھا اَور یَاہوِہ نے ایک نبی کو اُس کے پاس بھیجا۔ نبی نے اُس سے فرمایا، ”تُم اِن معبُودوں کی طرف کیوں رُجُوع ہُوئے جو اَپنے ہی لوگوں کو تمہارے ہاتھ سے نہ بچا سکے؟“ ابھی وہ باتیں کر ہی رہاتھا کہ بادشاہ نے پُوچھا، ”تُمہیں کس نے بادشاہ کا شاہی مُشیر مُقرّر کیا ہے؟ اَپنا مُنہ بند رکھ! کیا مرنے کا اِرادہ ہے؟“ پس وہ نبی یہ کہہ کر چُپ ہو گیا، ”میں جانتا ہُوں کہ خُدا نے تُمہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ تُونے اَیسا کیا ہے اَور میری نصیحت پر عَمل نہیں کیا ہے۔“ (2 تواریخ 25:14-16)

مشورے کے ذرائع

خداوند

”خُدا حِکمت اَور قُدرت کے مالک ہیں؛ مصلحت اَور دانائی بھی اُن ہی کی ہے۔ (ایُّوب 12:13)
میں یَاہوِہ کی سِتائش کروں گا، جو مُجھے صلاح دیتے ہیں؛ میرا دِل رات کو بھی میری تربّیت کرتا ہے۔ (زبُور 16:7)
یَاہوِہ کا خوف رکھنے والا شخص کون ہے؟ وہ اُسے اُس راہ کی تعلیم دیں گے جو اُس کے لیٔے چُنی گئی ہے۔ (زبُور 25:12)
میں تُمہیں ہدایت دُوں گا اَور بتاؤں گا کہ تُمہیں کس راہ پر چلنا ہوگا؛ میں تُمہیں صلاح دُوں گا اَور تُم پر نگاہ رکھوں گا۔ (زبُور 32:8)
یَاہوِہ قوموں کے منصُوبوں کو خاک میں مِلا دیتاہے؛ اَور اُمّتوں کے اِرادوں کو پُورا نہیں ہونے دیتا۔ لیکن یَاہوِہ کے منصُوبے اَبد تک، اَور اُس کے دِل کے اِرادے پُشت در پُشت قائِم رہتے ہیں۔ (زبُور 33:10-11)
آپ اَپنی مصلحت سے میری رہنمائی کرتے ہیں، اَور تَب آخِرکار مُجھے اَپنے جلال میں قبُول فرمائیں گے۔ (زبُور 73:24)
اِنسان کے دِل میں کیٔی منصُوبے ہوتے ہیں، لیکن صِرف یَاہوِہ کا اِرادہ ہی قائِم رہتاہے۔ (امثال 19:21)
کیونکہ ہمارے لیٔے ایک ولد پیدا ہُواہے، ہمیں ایک بیٹا بخشا گیا، اَور سلطنت اُس کے کندھوں پر ہوگی۔ اَور وہ عجِیب مُشیر، قادر خُدا، اَبدیّت کا باپ اَور سلامتی کا شہزادہ کہلائے گا۔ (یَشعیاہ 9:6)
یَاہوِہ کی رُوح اُس پر ٹھہرے گی۔ حِکمت اَور فہم کی رُوح، مصلحت اَور قُدرت کی رُوح، مَعرفت اَور یَاہوِہ کے خوف کی رُوح۔ (یَشعیاہ 11:2)
یہ سَب بھی اُس قادرمُطلق یَاہوِہ کی جانِب سے مُقرّر ہُواہے، جِن کا منصُوبہ شاندار ہے، اَورجو عظیم حِکمت کا مالک ہے۔ (یَشعیاہ 28:29)
آپ ہزاروں پر شفقت کرتے ہیں لیکن آباؤاَجداد کے گُناہوں کی سزا اُن کے بعد اُن کی اَولاد کے دامن میں ڈال دیتے ہیں۔ اَے عظیم اَور قادرمُطلق خُدا آپ کا نام قادرمُطلق یَاہوِہ ہے، آپ کے اِرادے اعلیٰ ہیں اَور آپ کے منصُوبے عظیمُ الشّان ہیں۔ آپ کی نگاہیں اِنسان کی تمام روِشوں پر لگی رہتی ہیں۔ آپ ہر ایک کو اُس کے اَخلاق اَور اُس کے اعمال کے مُطابق اجر دیتے ہیں۔ (یرمیاہؔ 32:18-19)

خداوند سے مشورہ نہ لینے کے نتائج

شاؤل اِس لیٔے مَرا کہ اُس نے دغا کی تھی اَور یَاہوِہ کے حُکم کی خِلاف ورزی کی تھی یہاں تک کہ اُس نے اَپنی رہنمائی کے لیٔے اَرواح کو طلب کرنے والی عورت سے مشورہ کیا۔ اَور یَاہوِہ سے دریافت نہ کیا۔ اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے مار ڈالا اَور سلطنت یِشائی کے بیٹے داویؔد کے ہاتھوں میں دے دی۔ (1 تواریخ 10:13-14)
اِسرائیل کے مَردوں نے یَاہوِہ سے پُوچھے بغیر اُن کے توشہ سفر میں سے کچھ لے کر چکھا۔ تَب یہوشُعؔ نے اُن کے ساتھ اَمن کا اَور جان بخشی کا عہد کیا اَور جماعت کے بُزرگوں نے قَسم کھا کر اُن کی تصدیق کی۔ (یہوشُعؔ 9:14-15)
لیکن وہ بہت جلد بھُول گیٔے کہ خُدا نے کیا کیا تھا اَور اُن کی مشورت کا اِنتظار نہ کیا۔ وہ بیابان میں حِرص کے شِکار ہو گئے؛ اَور صحرا میں خُدا کو آزمایا۔ تَب خُدا نے اُن لوگوں کو اُن کی مُنہ مانگی چیز تو دے دی، لیکن ساتھ ہی اُن پر لاغر کرنے والی وَبا بھی نازل کر دی۔ (زبُور 106:13-15)
کچھ لوگ اَندھیرے اَور گہری مایوسی میں، قَیدیوں کی مانند لوہے کی زنجیروں سے جکڑے ہُوئے بیٹھے تھے، کیونکہ اُنہُوں نے خُدا کے کلام سے بغاوت کی اَور خُداتعالیٰ کی مشورت کو حقیر جانا۔ چنانچہ خُدا نے اُنہیں سخت مشقّت میں ڈالا؛ وہ ٹھوکریں کھاتے پھرے لیکن کویٔی نہ تھا جو اُن کی مدد کرتا۔ (زبُور 107:10-12)

خداوند لوگوں کی مشورت پر اختیار رکھتا ہے

داویؔد کو خبر مِلی، ”سازش کرنے والوں میں اَبشالومؔ کے ساتھ اخِیتُفلؔ بھی شامل ہے۔“ لہٰذا داویؔد نے دعا مانگی، ”یَاہوِہ! اخِیتُفلؔ کی صلاح اَور مشورت کو ناکام بنادے۔“ داویؔد نے اُس سے کہا: ”اگر تُو میرے ساتھ جائے گا تو مُجھ پر بوجھ بنا رہے گا۔ لیکن اگر تُو شہر لَوٹ جائے اَور اَبشالومؔ سے کہے، ’اَے بادشاہ! مَیں آپ کی خدمت مَیں حاضِر ہُوا ہُوں جَیسے مَیں ماضی میں تیرے باپ کا خادِم تھا اَب تمہارا خادِم ہُوں۔‘ اِس طرح سے تُم اخِیتُفلؔ کی صلاح کو ناکام بنا کر میری مدد کر سکتے ہو۔ (2 شموایلؔ 15:31, 33-34)
اَبشالومؔ نے اخِیتُفلؔ سے کہا، ”مُجھے صلاح دیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟“ اُن دِنوں اخِیتُفلؔ کی ہر صلاح خُدا داد صلاح کی مانند سَمجھی جاتی تھی۔ داویؔد اَور اَبشالومؔ دونوں اخِیتُفلؔ کی صلاح کو یہی درجہ دیتے تھے۔ (2 شموایلؔ 16:20, 23)
جَب حُوشائی اُس کے پاس آیا تو اَبشالومؔ نے اُسے بتایا، ”اخِیتُفلؔ نے یہ صلاح دی ہے۔ کیا ہمیں اُس کے کہنے کے مُطابق عَمل کرنا چاہئے؟ اگر نہیں تو ہمیں بتا کہ تیری کیا تجویز ہے؟“ حُوشائی نے اَبشالومؔ کو جَواب دیا، ”اخِیتُفلؔ نے جو صلاح اِس دفعہ دیا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ حُوشائی نے مزید کہا کہ آپ اَپنے باپ کو اَور اُن کے آدمیوں کو جانتے ہیں کہ وہ جنگجو ہیں اَور اَیسی جنگلی ریچھنی کی طرح جھلّائے ہُوئے ہیں جِس کے بچّے اُس سے چھین لیٔے گیٔے ہُوں۔ علاوہ ازیں آپ کے باپ ایک تجربہ کار جنگی مَرد ہیں۔ وہ رات کے وقت فَوجیوں کے ساتھ نہیں ٹھہریں گے۔ اَور اَب بھی غار میں یا کسی اَور جگہ چھُپے ہُوئے ہوں گے۔ اگر پہلے وہ آپ کے فَوجیوں پر ٹوٹ پڑے تو جو کویٔی بھی اِس کے متعلّق سُنے گا یہ کہے گا، ’اَبشالومؔ کے حمایتی فَوجیوں کی خُونریزی شروع ہو گئی ہے۔‘ تَب بہادر سے بہادر اَور شیر دِل سپاہی بھی ڈر سے پگھل کر رہ جائے گا کیونکہ تمام بنی اِسرائیل کو مَعلُوم ہے کہ آپ کے باپ اَور وہ لوگ جو اُن کے ساتھ ہیں بڑے دِلیر سپاہی ہیں۔ ”لہٰذا مَیں آپ کو صلاح دیتا ہُوں کہ دانؔ سے لے کر بیرشبعؔ تک تمام اِسرائیلی جو سمُندر کی ریت کی مانند لاتعداد ہیں آپ کے پاس جمع ہُوں اَور آپ خُود جنگ میں اُن کی قیادت کرنا۔ تَب جہاں کہیں بھی وہ ہوں گے ہم اُن پر حملہ کریں گے اَور اُن پر اَیسے گریں گے جَیسے شبنم زمین پر گرتی ہے۔ ہم اُنہیں اَور اُن کے کسی آدمی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اگر وہ کسی شہر میں چلا جائے تو تمام اِسرائیل اِس شہر میں رسّیاں لے آئیں گے اَور ہم اِسے گھسیٹ کر وادی میں لے جائیں گے یہاں تک کہ ایک کنکری بھی باقی نہ رہ جائے۔“ تَب اَبشالومؔ اَور سارے اِسرائیلی لوگوں نے کہا، ”ارکی حُوشائی نے جو صلاح دی ہے وہ اخِیتُفلؔ کی صلاح سے بہتر ہے۔“ کیونکہ یَاہوِہ کی طرف سے پہلے ہی سے طے ہو چُکاتھا کہ اخِیتُفلؔ کی بہتر صلاح ناکام ثابت ہو اَور اَبشالومؔ پر آفت نازل ہو۔ پھر حُوشائی نے صدُوقؔ کاہِنؔ اَور ابیاترؔ کاہِنؔ، دونوں کو بتایا، ”اخِیتُفلؔ نے اَبشالومؔ کو اَور اِسرائیلی بُزرگوں کو صلاح دی کہ وہ یُوں کریں اَور مَیں نے اُنہیں اَیسا کرنے کی صلاح دی ہے۔ اَب جلدی کرو اَور کویٔی قاصِد بھیج کر داویؔد کو بتاؤ، ’وہ بیابان کے سبزہ زار میں رات نہ گُزاریں بَلکہ فوراً دریا کے پار چلے جائیں ورنہ بادشاہ اَور سَب لوگ جو اُن کے ساتھ ہیں نِیست کر دیئے جایٔیں گے۔‘ “ یُوناتانؔ اَور اخِیمعضؔ عینؔ روگلؔ کے پاس ٹھہرے ہُوئے تھے۔ ایک خادِمہ جا کر اُنہیں آگاہ کرتی تھی اَور وہ جا کر داویؔد بادشاہ کو بتاتے تھے کیونکہ وہ یہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے کہ کویٔی اُنہیں شہر میں داخل ہوتے ہُوئے دیکھ لے۔ لیکن ایک نوجوان نے اُنہیں دیکھ لیا اَور اَبشالومؔ کو بتا دیا۔ لہٰذا وہ جلدی سے وہاں سے روانہ ہوکر بحوریمؔ میں ایک آدمی کے گھر چلے گیٔے۔ اُس کے صحن میں ایک کنواں تھا اَور وہ اُس میں اُترگئے۔ اُس آدمی کی بیوی نے اُس کنوئیں کے مُنہ پر ایک چادر پھیلا دی اَور اُس پر اناج بِکھیر دیا اَور اِس چال کے بارے میں کسی کو کچھ بھی مَعلُوم نہ ہُوا۔ جَب اَبشالومؔ کے آدمی اُس گھر میں اُس عورت کے پاس آئے تو اُنہُوں نے پُوچھا کہ، ”اخِیمعضؔ اَور یُوناتانؔ کہاں ہیں؟“ اُس عورت نے اُنہیں جَواب دیا کہ وہ تو نالہ کے پار چلے گیٔے ہیں۔ اُن آدمیوں نے اُنہیں ڈھونڈا لیکن کسی کو وہاں نہ پایا لہٰذا وہ واپس یروشلیمؔ چلے گیٔے۔ اُن کے وہاں سے چلے جانے کے بعد وہ دونوں کنوئیں سے باہر نکلے اَور داویؔد بادشاہ کو خبر دینے پہُنچے۔ اُنہُوں نے اُس سے کہا: ”یہاں سے فوراً روانہ ہوکر دریا پار چلے جائیں کیونکہ اخِیتُفلؔ نے آپ کے خِلاف یہ صلاح دی ہے۔“ لہٰذا داویؔد اَور وہ سَب لوگ جو اُن کے ساتھ تھے روانہ ہُوئے اَور دریائے یردنؔ کے پار چلے گیٔے اَور صُبح کی رَوشنی ہونے تک سَب لوگ دریا کو پار کر چُکے تھے۔ جَب اخِیتُفلؔ نے دیکھا کہ اُس کی صلاح پر عَمل نہیں کیا گیا تو اُس نے اَپنے گدھے پر زین کسی اَور اَپنے گھر چلا گیا جو شہر میں تھا۔ وہاں اُس نے اَپنے گھرانے کا بندوبست کیا اَور پھر اَپنے آپ کو پھانسی دی اَور مَر گیا اَور اَپنے باپ کی قبر میں دفن ہُوا۔ (2 شموایلؔ 17:6-23)

کلامِ مقدس

آپ کی شہادتیں میرے لیٔے باعثِ مسرّت ہیں؛ وہ میرے مُشیر ہیں۔ (زبُور 119:24)

خدا ترس لوگ

ماں اور باپ

اَے میرے بیٹے! اَپنے باپ کی ہدایت پر کان لگاؤ اَور اَپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کرو۔ وہ تمہارے سَر کی زینت بڑھانے کے لیٔے سِہرا اَور تمہارے گلے کی زیبائش کے لیٔے ہار ہوں گے۔ (امثال 1:8-9)
اَے میرے بیٹے! اَپنے باپ کے اَحکام بجا لاؤ اَور اَپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کرو۔ اُنہیں اَپنے دِل پر ہمیشہ باندھے رکھو؛ اَور اَپنے گلے کا ہار بنالو۔ جَب تُم چلوگے تو وہ تمہاری رہنمائی؛ سوؤگے تو وہ تمہاری نگہبانی؛ اَور جَب جاگوگے تو وہ تُم سے باتیں کرےگی۔ (امثال 6:20-22)
اَپنے باپ کی سُنو جنہوں نے تُمہیں زندگی بخشی، اَور اَپنی ماں کی ضعیفی میں اُن کی تحقیر نہ کرنا۔ (امثال 23:22)

خدا ترس باپ کے مشورے کی مثال

جَب داویؔد کی وفات کا وقت قریب آیا تو اُنہُوں نے اَپنے بیٹے شُلومونؔ کو یہ حُکم دیا۔ اَور فرمایا، ”دُنیا کے دستور کے مُطابق میں جا رہا ہُوں۔ لہٰذا، مضبُوط ہو جاؤ اَور مردانگی دِکھاؤ، اَور جِس بات کا یَاہوِہ تمہارے خُدا نے حُکم دیا ہے اُس پر عَمل کرو، اُن کی راہوں پر چلو اَور اُن کے قوانین اَور اَحکام، آئین اَور طریقے کو بجا لاؤ، جَیسا کہ مَوشہ کے آئین میں لِکھّا ہے۔ اَیسا کرنے سے جو کُچھ تُم کرو اَور جہاں کہیں تُم جاؤ، وہاں تُمہیں پُوری کامیابی حاصل ہوگی۔ اَور یَاہوِہ اَپنے اُس وعدہ کو پُورا کریں، جو اُنہُوں نے مُجھ سے کیا تھا، ’اگر تمہاری اَولاد اُس راستہ پر چلے جِس پر اُسے چلنا ہے اَور اگر وہ اَپنی پُوری ایمانداری، دِل و جان سے میرے حُضُور وفاداری سے چلے، تو بنی اِسرائیل کے تخت پر بیٹھنے کے لیٔے تمہارے یہاں جانشین کی کبھی کمی نہ ہوگی۔‘ (1 سلاطین 2:1-4)

حکمت کی نعمت پانے والے

اَور رُوئے زمین کے سَب بادشاہ شُلومونؔ کی خدمت میں شرف باریابی چاہتے تھے تاکہ وہ اُن حِکمت کی باتوں کو سُنیں جو خُدا نے اُن کے دِل میں ڈالی تھیں۔ (2 تواریخ 9:23)
جو دانشمندی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے وہ دانشمند بنتا ہے، لیکن احمقوں کا ساتھی نُقصان اُٹھاتا ہے۔ (امثال 13:20)
کسی کو پاک رُوح کی طرف سے حِکمت کا کلام عطا کیا جاتا ہے اَور کسی کو اُسی رُوح کے وسیلہ سے علمیّت کا کلام، (1 کُرِنتھِیوں 12:8)

تجربہ کار لوگ

تَب رحُبعامؔ بادشاہ نے اُن بُزرگوں سے مشورہ کیا جو اُس کے والد شُلومونؔ کی زندگی بھر اُس کے خدمت گزار تھے، ”اِن لوگوں کو میں کیا جَواب دُوں؟ مُجھے آپ کیا صلاح دینا چاہتے ہیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”اگر تُم آج کے دِن قوم کے خادِم کی طرح اُن سے پیش آؤگے اَور اُنہیں نرمی سے جَواب دوگے تو وہ تاعمر تمہارے غُلام بنے رہیں گے۔“ لیکن رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح قبُول نہ کی بَلکہ جا کر اُن جَوانوں سے مشورہ کیا جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی اَورجو اُس کے خادِم تھے۔ (1 سلاطین 12:6-8)
تَب رحُبعامؔ بادشاہ نے اُن بُزرگوں سے مشورہ کیا جو اُس کے والد شُلومونؔ کی زندگی بھر اُن کے خدمت گزار تھے، ”اِن لوگوں کو میں کیا جَواب دُوں؟ مُجھے آپ کیا صلاح دینا چاہتے ہیں؟“ اُنہُوں نے اُسے جَواب دیا، ”اگر آپ اِن لوگوں پر مہربان ہوں گے اَور اُنہیں خُوش کرے اَور اُنہیں اُمّید دِلانے والے الفاظ سے مُخاطِب ہو، تو وہ ہمیشہ آپ کے خادِم بنے رہیں گے۔“ لیکن رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح قبُول نہ کی بَلکہ جا کر اُن جَوانوں سے مشورہ کیا جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی اَورجو اُس کے خادِم تھے۔ (2 تواریخ 10:6-8)

وہ مشورہ جس سے بچنا چاہیے

شریر لوگ

وہ خُدا سے کہتے ہیں کہ ہمیں آپ سے کویٔی مطلب نہیں! ہم آپ کی راہیں جاننے کے خواہاں نہیں۔ آخِر قادرمُطلق ہے کون جو ہم اُن کی خدمت کریں؟ اُن سے دعا کریں تو ہمیں کیا حاصل ہوگا؟ لیکن اُن کی اِقبالمندی اُن کے اَپنے ہاتھ میں نہیں ہے، بدکاروں کے منصُوبے میری سمجھ سے باہر ہیں۔ (ایُّوب 21:14-16)
وہ آدمی مُبارک ہے جو بدکار لوگوں کی صلاح پر نہیں چلتا، اَور نہ گُنہگاروں کی راہ میں قدم رکھتا ہے اَور نہ ٹھٹّھے بازوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، (زبُور 1:1)
صادقوں کے منصُوبے راست ہوتے ہیں، لیکن بدکاروں کی صلاح پُر فریب ہوتی ہے۔ (امثال 12:5)

بُرے مشورے کی مثال

تَب اُن کے اِردگرد کے لوگ یہُوداہؔ کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنے اَور اُنہیں تعمیر کرنے سے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔ وہ خورشؔ شاہِ فارسؔ کے تمام دَورِ حُکومت سے لے کر داریاویشؔ شاہِ فارسؔ کے دَورِ حُکومت تک اُن کے خِلاف کاروائی کرنے اَور اُن کی تجاویز کو ناکام بنانے کے لیٔے مُشیروں کو رشوت دیتے رہے۔ (عزرا 4:4-5)
اَے نینوہؔ، تُجھ میں سے ایک شخص نِکلا ہے، جو یَاہوِہ کے خِلاف بُرے منصُوبہ باندھتا ہے اَور بُرائی کی سازش کرتا ہے۔ (ناحُومؔ 1:11)

بت پرست لوگ

وہ ایک بے عقل قوم ہیں، وہ سمجھ سے خالی ہیں۔ (اِستِثنا 32:28)
لیکن مَیں نے دیکھا تو وہاں کسی کو نہ پایا۔ اُن کے معبُودوں میں مُشیر تو کویٔی بھی نہیں تھا، نہ ہی کویٔی ہے جو پُوچھنے پر جَواب دے سکے۔ دیکھ وہ سَب جھُوٹے ہیں! اُن کے کام ہیچ ہیں؛ اَور اُن کے ڈھالے ہُوئے بُت صرف ہَوا اَور الجھن ہیں۔ (یَشعیاہ 41:28-29)

بزرگ لوگ

لیکن رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح قبُول نہ کی بَلکہ جا کر اُن جَوانوں سے مشورہ کیا جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی اَورجو اُس کے خادِم تھے۔ اُس نے اُن سے پُوچھا، ”اِن لوگوں کی بابت تمہاری صلاح کیا ہے؟ ’جو مُجھ سے یہ کہتے ہُوئے فریاد کرنے آئےتھے، اُس جُوئے کو جو آپ کے والد نے ہم پر رکھا تھا ہلکا کر دیجئے‘؟“ اُن جَوانوں نے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی جَواب دیا، ”اِن لوگوں کو جنہوں نے تُم سے یہ فریاد کی ہے، ’آپ کے والد نے ہم پر بھاری جُوا رکھا تھا لیکن آپ ہمارے جوُئے کو ہلکا کر دیجئے، آپ اُنہیں یہ جَواب دیجئے، میرے ہاتھ کی چُھوٹی اُنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے۔ تَب بادشاہ نے بُزرگوں کی صلاح کو ردّ کرتے ہویٔے لوگوں کو بڑی سختی سے جَواب دیا۔ بادشاہ نے نوجوانوں کی صلاح پر عَمل کیا اَور فرمایا، ”میرے باپ نے تو تمہارا جُوا بھاری کیا تھا، لیکن مَیں اُسے اَور بھی زِیادہ بھاری کر دُوں گا۔ میرے باپ نے تو تُمہیں کوڑے مارنے کی سزا دی تھی لیکن مَیں تُمہیں بِچھُّوؤں سے سزا دُوں گا۔“ (1 سلاطین 12:8-10, 13-14)
لیکن رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح قبُول نہ کی بَلکہ جا کر اُن جَوانوں سے مشورہ کیا جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی اَورجو اُس کے خادِم تھے۔ اُس نے اُن سے پُوچھا، ”اِن لوگوں کی بابت تمہاری صلاح کیا ہے؟ ’جو مُجھ سے یہ کہتے ہُوئے فریاد کرنے آئےتھے، اُس جُوئے کو جو آپ کے والد نے ہم پر رکھا تھا ہلکا کر دیجئے‘؟“ اُن جَوانوں نے جنہوں نے اُس کے ساتھ پرورِش پائی تھی جَواب دیا، ”اُن لوگوں کو جنہوں نے تُم سے یہ فریاد کی ہے، ’آپ کے والد نے ہم پر بھاری جُوا رکھا تھا لیکن آپ ہمارے جوُئے کو ہلکا کر دیجئے، آپ اُنہیں یہ جَواب دیجئے، میرے ہاتھ کی چُھوٹی اُنگلی میرے باپ کی کمر سے بھی موٹی ہے۔ تَب بادشاہ رحُبعامؔ نے بُزرگوں کی صلاح کے برعکس اُنہیں سختی سے جَواب دیا۔ بادشاہ نے نوجوانوں کی صلاح پر عَمل کیا اَور فرمایا، ”میرے باپ نے تو تمہارا جُوا بھاری کیا تھا، لیکن مَیں اُسے اَور بھی زِیادہ بھاری کر دُوں گا۔ میرے باپ نے تو تُمہیں کوڑے مارنے کی سزا دی تھی لیکن مَیں تُمہیں بِچھُّوؤں سے سزا دُوں گا۔“ (2 تواریخ 10:8-10, 13-14)

برکتیں اور لعنتیں

مشورہ لینے کی برکتیں اور فوائد

کامیابی

ہدایت کے بغیر قوم گِر جاتی ہے، لیکن متعدّد مُشیر فتح کو یقینی بنا دیتے ہیں۔ (امثال 11:14)
اِرادے مشوروں کے بغیر ناکام ہو جاتے ہیں، لیکن صلاح کاروں کی کثرت سے وہ پُورے ہوتے ہیں۔ (امثال 15:22)
جنگ کرنے کے لیٔے رہنمائی کی ضروُرت ہوتی ہے، اَور مُشیروں کی کثرت فتحیابی کا باعث بنتی ہے۔ (امثال 24:6)

سمت اور راہنمائی

میں تُمہیں ہدایت دُوں گا اَور بتاؤں گا کہ تُمہیں کس راہ پر چلنا ہوگا؛ میں تُمہیں صلاح دُوں گا اَور تُم پر نگاہ رکھوں گا۔ (زبُور 32:8)
آپ اَپنی مصلحت سے میری رہنمائی کرتے ہیں، اَور تَب آخِرکار مُجھے اَپنے جلال میں قبُول فرمائیں گے۔ (زبُور 73:24)
اَے میرے بیٹے! اَپنے باپ کے اَحکام بجا لاؤ اَور اَپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کرو۔ اُنہیں اَپنے دِل پر ہمیشہ باندھے رکھو؛ اَور اَپنے گلے کا ہار بنالو۔ جَب تُم چلوگے تو وہ تمہاری رہنمائی؛ سوؤگے تو وہ تمہاری نگہبانی؛ اَور جَب جاگوگے تو وہ تُم سے باتیں کرےگی۔ (امثال 6:20-22)

حکمت

غُرور سے صِرف جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ صلاح مانتے ہیں اُن میں حِکمت پائی جاتی ہے۔ (امثال 13:10)
مشورت کو سُنو اَور اَپنی اِصلاح کرو، تاکہ آخِرکار تُم دانشمند ہو جاؤ۔ (امثال 19:20)

مشورہ دینے کی خوشی

بدی کے منصُوبے باندھنے والوں کے دِل میں دغا ہوتی ہے، لیکن جو صُلح کا مشورہ دیتے ہیں خُوش ہوتے ہیں۔ (امثال 12:20)

مشورہ نہ لینے یا شریروں سے مشورہ لینے کی لعنتیں/نتائج

موت

شاؤل اِس لیٔے مَرا کہ اُس نے دغا کی تھی اَور یَاہوِہ کے حُکم کی خِلاف ورزی کی تھی یہاں تک کہ اُس نے اَپنی رہنمائی کے لیٔے اَرواح کو طلب کرنے والی عورت سے مشورہ کیا۔ اَور یَاہوِہ سے دریافت نہ کیا۔ اِس لیٔے یَاہوِہ نے اُسے مار ڈالا اَور سلطنت یِشائی کے بیٹے داویؔد کے ہاتھوں میں دے دی۔ (1 تواریخ 10:13, 14)
وہ بھی احابؔ کے گھرانے کی راہوں پر چلا کیونکہ اُس کی ماں بدی کے کام کرنے میں اُس کی حوصلہ اَفزائی کیا کرتی تھی۔ اَور اُس نے یَاہوِہ کی نظر میں بدی کی جَیسے احابؔ کے گھرانے نے کی تھی۔ کیونکہ اُس کے باپ کی موت کے بعد احابؔ کے گھرانے کے لوگ ہی اُس کے مُشیر تھے اَور اُس کی تباہی کا باعث ہُوئے۔ اَور اُس وقت بھی اُس نے اُن کے مشورہ پر عَمل کیا جَب وہ شاہِ اِسرائیل یہُورامؔ یعنی یُورامؔ بِن احابؔ کے ساتھ شاہِ ارام حزائیلؔ سے راموتؔ گِلعادؔ میں جنگ کرنے گیا۔ ارامیوں نے یُورامؔ کو زخمی کر دیا۔ (2 تواریخ 22:3-5)
ابھی وہ باتیں کر ہی رہاتھا کہ بادشاہ نے پُوچھا، ”تُمہیں کس نے بادشاہ کا شاہی مُشیر مُقرّر کیا ہے؟ اَپنا مُنہ بند رکھ! کیا مرنے کا اِرادہ ہے؟“ پس وہ نبی یہ کہہ کر چُپ ہو گیا، ”میں جانتا ہُوں کہ خُدا نے تُمہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ تُونے اَیسا کیا ہے اَور میری نصیحت پر عَمل نہیں کیا ہے۔“ (2 تواریخ 25:16)
لیکن جَب مَیں نے تُمہیں بُلایا تو تُم نے مُجھے مُسترد کر دیا، اَور جَب مَیں نے ہاتھ پھیلایا تو کسی نے دھیان نہ دیا، اَور چونکہ تُم نے میری تمام مشورت کو نظرانداز کر دیا اَور میری تنبیہ کو قبُول نہ کیا، اِس لیٔے میں بھی تمہاری مُصیبت پر ہنسوں گی؛ اَور جَب تُم پر دہشت چھا جائے گی تو مضحکہ اُڑاؤں گی۔ جَب آفت آندھی کی مانند تُم پر آ پڑےگی، اَور مُصیبت گردوغبار کی طرح تُمہیں اَپنی لپیٹ میں لے گی، اَور جَب تکلیفیں اَور پریشانیاں تُم پر حاوی ہو جایٔیں گی۔ ”تَب وہ مُجھے مدد کے لئے پُکاریں گے لیکن مَیں جَواب نہ دُوں گی؛ وہ مُجھے ڈھونڈیں گے پر نہ پائیں گے۔ چونکہ اُنہُوں نے علم سے عداوت رکھی اَور اُنہُوں نے ہمیشہ یَاہوِہ کی اِطاعت کرنے سے اِنکار کیا۔ چونکہ اُنہیں میری صلاح پسند نہ آئی اَور اُنہُوں نے میری تنبیہ کو حقیر جانا، اِس لیٔے وہ اَپنی روِش کا پھل کھایٔیں گے اَور اَپنے منصُوبوں کے پھل سے پیٹ بھریں گے۔ کیونکہ نادانوں کو اُن کی برگشتگی ختم کر دے گی، اَور احمقوں کی لاپروائی اُن کی تباہی کا باعث بَن جائے گی؛ (امثال 1:24-32)

جھگڑا

غُرور سے صِرف جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ صلاح مانتے ہیں اُن میں حِکمت پائی جاتی ہے۔ (امثال 13:10)

منصوبوں کا ناکام ہونا

اِرادے مشوروں کے بغیر ناکام ہو جاتے ہیں، لیکن صلاح کاروں کی کثرت سے وہ پُورے ہوتے ہیں۔ (امثال 15:22)

ناکامی

ہدایت کے بغیر قوم گِر جاتی ہے، لیکن متعدّد مُشیر فتح کو یقینی بنا دیتے ہیں۔ (امثال 11:14)

دیگر لعنتیں اور نتائج

اِسرائیل کے مَردوں نے یَاہوِہ سے پُوچھے بغیر اُن کے توشہ سفر میں سے کچھ لے کر چکھا۔ تَب یہوشُعؔ نے اُن کے ساتھ اَمن کا اَور جان بخشی کا عہد کیا اَور جماعت کے بُزرگوں نے قَسم کھا کر اُن کی تصدیق کی۔ (یہوشُعؔ 9:14-15)
لیکن وہ بہت جلد بھُول گیٔے کہ خُدا نے کیا کیا تھا اَور اُن کی مشورت کا اِنتظار نہ کیا۔ وہ بیابان میں حِرص کے شِکار ہو گئے؛ اَور صحرا میں خُدا کو آزمایا۔ تَب خُدا نے اُن لوگوں کو اُن کی مُنہ مانگی چیز تو دے دی، لیکن ساتھ ہی اُن پر لاغر کرنے والی وَبا بھی نازل کر دی۔ (زبُور 106:13-15)
کچھ لوگ اَندھیرے اَور گہری مایوسی میں، قَیدیوں کی مانند لوہے کی زنجیروں سے جکڑے ہُوئے بیٹھے تھے، کیونکہ اُنہُوں نے خُدا کے کلام سے بغاوت کی اَور خُداتعالیٰ کی مشورت کو حقیر جانا۔ چنانچہ خُدا نے اُنہیں سخت مشقّت میں ڈالا؛ وہ ٹھوکریں کھاتے پھرے لیکن کویٔی نہ تھا جو اُن کی مدد کرتا۔ (زبُور 107:10-12)