والدین اپنے بچوں کو زندگی کے خدا ترس اصول اور طور طریقے سکھانے کے ذمہ دار ہیں
لہٰذا محتاط اَور نہایت خبردار رہو اَیسا نہ ہو کہ جو کچھ تُم نے اَپنی آنکھوں سے دیکھاہے اُسے ہمیشہ کے لیٔے بھُول جاؤ یا وہ تمہارے دِل سے مِٹ جائے۔ تُم یہ باتیں اَپنی اَولاد کو اَور اُن کے بعد اُن کی اَولاد کو سِکھاتے رہنا۔ (اِستِثنا 4:9)
یہ اَحکام جو آج مَیں تُمہیں دے رہا ہُوں وہ تمہارے دِل پر نقش ہُوں۔ تُم اُنہیں اَپنی اَولاد کے ذہن نشین کرو۔ گھر میں بیٹھتے اَور راہ پر چلتے اَور لیٹتے اَور اُٹھتے وقت اِن کا ذِکر کیا کرنا۔ (اِستِثنا 6:6-7)
اِس لیٔے میرے اِن الفاظ کو اَپنے دِل و دماغ پر نقش کر لو اَور تُم اُنہیں اَپنے ہاتھوں پر نِشان کے طور پر باندھنا اَور اَپنی پیشانیوں پر ٹیکوں کی طرح لگا لو۔ گھر میں بیٹھتے، راہ پر چلتے، لیٹتے اَور اُٹھتے ہویٔے، تُم اِن کا ذِکر کیا کرنا؛ اَور اُنہیں اَپنے بچّوں کو سِکھایا کرنا۔ (اِستِثنا 11:18-19)
بچّہ کو اُسی راہ کے مُوافق تربّیت کرو جِس پر اُسے جاناہے، اَور جَب وہ بُوڑھا ہو جائے گا تَب بھی اُس سے نہ ہٹے گا۔ (امثال 22:6)