کام

کام خدا کی طرف سے اور ضروری ہے، مگر اس میں آرام اور عبادت کا توازن ہونا چاہیے۔ خدا کے لیے کیا گیا ہر دیانتدارانہ کام باعزت ہے۔ سستی کی مذمت کی گئی ہے اور حد سے زیادہ کام کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

کام کے بارے میں بائبل کا نقطۂ نظر

کام ضروری ہے

خداوند خود کام کرنے والا ہے

ساتویں دِن تک خُدا نے اُس کام کو پُورا کیا جسے وہ کر رہے تھے؛ چنانچہ ساتویں دِن وہ اَپنے سارے کام سے فارغ ہُوئے۔ اَور خُدا نے ساتویں دِن کو برکت دی اَور اُسے مُقدّس ٹھہرایا، کیونکہ اُس دِن خُدا نے تخلیقِ کائِنات کے سارے کام سے فراغت پائی۔ (پیدائش 2:2-3)
اَور یَاہوِہ خُدا نے مشرق کی جانِب عدنؔ میں ایک باغ لگایا اَور آدمؔ کو اُنہُوں نے بنایا تھا اَور وہاں رکھا۔ (پیدائش 2:8)
یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میرا باپ اَب تک اَپنا کام کر رہاہے اَور مَیں بھی کر رہا ہُوں۔“ (یُوحنّا 5:17)

پرانے عہد نامے میں مطلوب

چھ دِن تک تُم محنت سے اَپنا سارا کام کاج کرنا۔ (خُروج 20:9)
”چھ دِن اَپنا کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن کویٔی کام نہ کرنا تاکہ تمہارے بَیل اَور تمہارے گدھے کو آرام ملے اَور تمہارا خانہ زاد غُلام اَور وہ پردیسی جو تمہارے یہاں ٹھہرا ہو، تازہ دَم ہو جایٔے۔ (خُروج 23:12)
”تُم چھ دِن کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن آرام کرنا ہل چلانے اَور فصل کاٹنے کے موسم کے دَوران بھی ضروُر آرام کرنا۔ (خُروج 34:21)
چھ دِن تک تُم محنت سے اَپنا سارا کام کاج کرنا۔ (اِستِثنا 5:13)

نئے عہد نامے میں مطلوب

چوری کرنے والا آئندہ چوری نہ کرے، بَلکہ کویٔی اَچھّا پیشہ اِختیار کرکے اَپنے ہاتھوں سے محنت کرے، تاکہ مُحتاجوں کی مدد کرنے کے لیٔے اُس کے پاس کچھ ہو۔ (اِفِسیوں 4:28)
ہم کسی کی مُفت کی روٹی نہیں کھاتے تھے۔ بَلکہ، رات دِن محنت مشقّت کرتے تھے، تاکہ ہم تُم میں سے کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ اِس لیٔے نہیں کہ ہمارا تُم پر کویٔی حق نہ تھا، بَلکہ اِس لیٔے کہ اَیسا نمونہ بنو جِس پر تُم چل سکو۔ اَور جَب ہم تمہارے پاس تھے تَب بھی ہمارا یہی حُکم تھا: ”جو آدمی کام نہیں کرےگا وہ کھانے سے بھی محروم رہے گا۔“ ہم نے سُنا ہے کہ تُم میں بعض اَیسے بھی ہیں جو محنت سے جی چُراتے ہیں۔ اَور وہ خُود تو کچھ کرتے نہیں؛ مگر دُوسروں کے کام میں دخل دیتے ہیں۔ اَیسے لوگوں کو ہم خُداوؔند یِسوعؔ المسیح کے نام سے حُکم دیتے ہیں اَور نصیحت کرتے ہیں کہ وہ خاموشی سے اَپنا کام کریں اَور محنت کی روٹی کھایٔیں۔ (2 تھِسّلُنیِکیوں 3:8-12)

کام کی توقع کی جاتی ہے

تَب اِنسان اَپنے کام پر نکل پڑتے ہیں، اَور شام تک محنت کرتے رہتے ہیں۔ (زبُور 104:23)

کام کرنے کا تقاضا گناہ کا نتیجہ نہیں

تَب اِنسان اَپنے کام پر نکل پڑتے ہیں، اَور شام تک محنت کرتے رہتے ہیں۔ (زبُور 104:23)

گناہ میں گرنے کے بعد خداوند نے کام کا حکم دیا، مگر کام زیادہ مشکل ہو گیا

اَور خُدا نے آدمؔ سے فرمایا، ”چونکہ تُم نے اَپنی بیوی کی بات مانی اَور اُس درخت کا پھل کھایا، ’جسے کھانے سے مَیں نے منع کیا تھا،‘ ”اِس لیٔے زمین تمہارے سبب سے ملعُون ٹھہری، تُم محنت اَور مشقّت کرکے عمر بھر اُس کی پیداوار کھاتے رہوگے۔ وہ تمہارے لیٔے کانٹے اَور اُونٹ کٹارے اُگائے گی، اَور تُم کھیت کی سبزیاں کھاؤگے۔ تُم اَپنے ماتھے کے پسینے کی روٹی کھاؤگے: جَب تک کہ تُم زمین میں پھر لَوٹ نہ جاؤ، اِس لیٔے کہ تُم اُسی میں سے نکالے گئے ہو؛ کیونکہ تُم خاک ہو اَور خاک ہی میں پھر لَوٹ جاؤگے۔“ لہٰذا یَاہوِہ خُدا نے اُسے باغِ عدنؔ سے نکال دیا تاکہ وہ اُس زمین کی، جِس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔ (پیدائش 3:17-19, 23)
اُس نے اُس کا نام نوحؔا رکھا اَور کہا، ”یہ ہمیں اَپنے ہاتھوں کی محنت اَور مشقّت سے جو ہم اِس زمین پر کرتے ہیں، جسے یَاہوِہ نے ملعُون قرار دیا، آرام دے گا۔“ (پیدائش 5:29)

ہر دیانتدارانہ کام باعزت ہے

خدا ترس لوگوں کے پیشوں کی مثالیں

کسان

اَور یَاہوِہ خُدا نے آدمؔ کو باغِ عدنؔ میں رکھا تاکہ اُس کی باغبانی اَور نِگرانی کرے۔ (پیدائش 2:15)
اُس کے بعد قائِنؔ کے بھایٔی ہابلؔ کو پیدا کیا۔ ہابلؔ بھیڑ بکریوں کا چرواہا تھا، اَور قائِنؔ کھیتی باڑی کرتا تھا۔ (پیدائش 4:2)
نوحؔا نے کاشتکاری شروع کی اَور انگور کا ایک باغ لگایا۔ (پیدائش 9:20)
وہ لوگ چرواہے ہیں اَور مویشی پالتے ہیں اَور وہ اَپنے ساتھ اَپنی بھیڑ بکریوں کے گلّے اَور مویشیوں کو اَورجو کچھ اُن کی مِلکیّت ہے سَب لے کر آ گئے ہیں۔‘ (پیدائش 46:32)
فَرعوہؔ نے اُن بھائیوں سے پُوچھا، ”تمہارا پیشہ کیا ہے؟“ اُنہُوں نے فَرعوہؔ کو جَواب دیا، ”تمہارے خادِم گلّہ بان ہیں، جَیسے ہمارے آباؤاَجداد تھے۔“ (پیدائش 47:3)
عامُوسؔ نبی نے اماضیاہؔ کو جَواب دیا، ”مَیں نہ نبی تھا اَور نہ نبی کا بیٹا ہُوں، مَیں تو ایک چرواہا اَور گُولر کے درختوں کی دیکھ بھال کرنے والا تھا۔ (عامُوسؔ 7:14)

گھریلو ملازم

تو یُوسیفؔ پر اُن کی مہربانی ہُوئی اَور پُطیفؔار نے یُوسیفؔ کو اَپنی خدمت گزاری میں لے لیا۔ پُطیفؔار نے اُنہیں اَپنے گھر کا مختار مُقرّر کیا اَور اَپنا سَب کچھ اُنہیں سونپ دیا۔ (پیدائش 39:4)

سرکاری ملازم اور راہنما

چنانچہ فَرعوہؔ نے یُوسیفؔ سے کہا، ”مَیں تُجھے سارے مُلک مِصر کا مختار مُقرّر کرتا ہُوں۔“ (پیدائش 41:41)
اَور اُنہُوں نے باپ سے کہا، ”یُوسیفؔ اَب تک زندہ ہے۔ وہ واقعی سارے مُلک مِصر کا حاکم ہے۔“ یہ سُن کر یعقوب کا دِل دھک سے رہ گیا۔ اُنہُوں نے اَپنے بیٹوں کی باتوں کا یقین نہ کیا۔ (پیدائش 45:26)
اُس اِنتظام کے بعد مَیں نے کھڑے ہوکر اُمرا، اہلکاروں اَور دیگر لوگوں سے کہا، ”اُن سے مت ڈرو۔ یَاہوِہ کو یاد کرو جو عظیم اَور مُہیب ہے۔ اَور اَپنے خاندانوں، بیٹوں، بیٹیوں اَور اَپنی بیویوں اَور اَپنے گھروں کی خاطِر جنگ کرو۔“ (نحمیاہ 4:14)
اُس نے اُنہیں اَپنے گھر کا مختار، اَور اَپنی ساری مِلکیّت پر حاکم مُقرّر کیا۔ (زبُور 105:21)
تَب بادشاہ نے دانی ایل کو اعلیٰ عہدہ پر سرفراز کیا اَور اُسے بہت سے تحفے عنایت کئے۔ اُس نے اُسے بابیل کے سارے صُوبہ کا حُکمران مُقرّر کیا اَور اُسے اُس کے تمام دانِشوروں کی ذمّہ داری عنایت کی۔ (دانی ایل 2:48)
بادشاہ داریاویشؔ نے اَپنی خُوشی سے ایک سَو بیس ناظِم مُقرّر کئے جو اُس کی ساری مملکت میں حُکومت کرتے تھے۔ اَور اُن کے اُوپر تین وزیر بھی مُقرّر کئے جِن میں سے ایک دانی ایل تھا۔ اَور ناظِموں کو تینوں وزیر کے ماتحت کر دیا گیا تاکہ بادشاہ کو کوئی نُقصان نہ اُٹھانا پڑے۔ (دانی ایل 6:1-2)
میں دانی ایل تھک گیا اَور کیٔی دِنوں تک عَلیل پڑا رہا۔ پھر مَیں اُٹھا اَور بادشاہ کے کاروبار میں مصروف ہُوا۔ لیکن مَیں اُس رُویا سے بہت سہم گیا تھا کیونکہ وہ سمجھ سے بالاتر تھی۔ (دانی ایل 8:27)
چنانچہ فِلِپُّسؔ اُٹھے اَور روانہ ہویٔے، راستے میں اُن کی مُلاقات ایک خوجہ سے ہویٔی جو ایتھوپیا کی ملِکہ کنداکؔے کا ایک وزیر تھا اَور اُس کے سارے خزانہ کی دیکھ بھال اُس کے ذمّہ تھی۔ یہ شخص یروشلیمؔ میں عبادت کی غرض سے آیاتھا، (اعمال 8:27)

ماہی گیر

ایک دِن صُوبہ گلِیل کی جھیل کے کنارے چلتے ہُوئے یِسوعؔ نے دو بھائیوں کو، یعنی شمعُونؔ کو جو پطرس کہلاتےہیں اَور اُن کے بھایٔی اَندریاسؔ کو دیکھا۔ یہ دونوں اُس وقت جھیل میں جال ڈال رہے تھے کیونکہ اُن کا پیشہ ہی مچھلی پکڑناتھا۔ (متّی 4:18)
صُوبہ گلِیل کی جھیل کے کنارے جاتے ہویٔے، یِسوعؔ نے شمعُونؔ اَور اُن کے بھایٔی اَندریاسؔ کو دیکھا یہ دونوں اُس وقت جھیل میں جال ڈال رہے تھے، کیونکہ اُن کا پیشہ ہی مچھلی پکڑناتھا۔ (مرقُس 1:16)
آپ نے اُنہیں دیکھتے ہی بُلایا وہ اَپنے باپ، زبدیؔ کو کشتی میں مزدُوروں کے ساتھ چھوڑکر حُضُور کے پیچھے چل دئیے۔ (مرقُس 1:20)

تعمیراتی پیشے

کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں؟ اُنہُوں نے سوال کیا، کیا اِس کی ماں کا نام مریمؔ نہیں اَور کیا یعقوب، یُوسیفؔ، شمعُونؔ اَور یہُوداہؔ اِس کے بھایٔی نہیں؟ (متّی 13:55)
کیا یہ بڑھئی نہیں؟ جو مریمؔ کا بیٹا اَور یعقوب، یُوسیسؔ، یہُوداہؔ، اَور شمعُونؔ کے بھایٔی نہیں؟ کیا اِن کی بہنیں ہمارے یہاں نہیں رہتیں؟“ اَور اُنہُوں نے اُن کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔ (مرقُس 6:3)
وہاں پَولُسؔ کو ایک یہُودی مِلا جِس کا نام اَکوِلہؔ تھا۔ وہ پُنطُسؔ کا رہنے والا تھا۔ اَور اَپنی پرسکِلّہؔ کے ساتھ حال ہی میں اِطالیہؔ سے آیاتھا کیونکہ قَیصؔر کلودِیُسؔ نے حُکم دیا تھا کہ تمام یہُودی رُوم شہر سے نکل جایٔیں۔ پَولُسؔ اُن کے پاس گیٔے۔ اَکوِلہؔ اَور پرسکِلّہؔ کا پیشہ خیمہ دوزی تھا اَور یہی پیشہ پَولُسؔ کا بھی تھا۔ لہٰذا وہ اُن کے ساتھ رہ کر کام کرنے لگے۔ (اعمال 18:2-3)

محصول لینے والے

چلتے چلتے یِسوعؔ نے، حلفئؔی کے بیٹے لیوی کو محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اَور لیوی سے کہا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ،“ اَور وہ اُٹھ کر یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیٔے۔ (مرقُس 2:14)
اِن واقعات کے بعد یِسوعؔ وہاں سے نکلے اَور ایک محصُول لینے والے کو جِس کا نام لیوی تھا، محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا۔ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ۔“ (لُوقا 5:27)
وہاں ایک آدمی تھا جِس کا نام زکّائیؔ تھا۔ وہ محصُول لینے والوں کا افسر تھا اَور کافی دولتمند تھا۔ (لُوقا 19:2)

تاجر

ہماری باتیں سُننے والی عورتوں میں لُدیہؔ نام کی ایک عورت تھی۔ وہ تھُواتِیؔرہ شہر کی تھی اَور قِرمزی رنگ والے کپڑے کا کاروبار کرتی تھی اَور بڑی خُداپرست تھی۔ خُداوؔند نے اُس کا کشادہ دِل کیا کہ پَولُسؔ کا پیغام سُنے اَور اُسے قبُول کرے۔ (اعمال 16:14)

ایسے کام کریں جیسے خداوند کے لیے

پس تُم کھاؤ یا پیو یا خواہ جو کچھ کرو، سَب خُدا کے جلال کے لیٔے کرو۔ (1 کُرِنتھِیوں 10:31)
خادِموں! اَپنے دُنیوی مالکوں کی صدق دِلی سے ڈرتے اَور کانپتے ہویٔے، اَیسی فرمانبرداری کرو جَیسی المسیح کی کرتے ہو۔ آدمیوں کو خُوش کرنے والوں کی طرح محض دِکھاوے کے لیٔے خدمت نہ کرو، بَلکہ اُسے خُوش دِلی سے اَنجام دو گویا تُم المسیح کے خادِم ہو، اَور خُدا کی مرضی بجا لا رہے ہو۔ اَور خدمت کو آدمیوں کا نہیں، بَلکہ خُداوؔند کا کام سمجھ کر، اُسے جی جان سے کرو۔ کیونکہ تُم جانتے ہو کہ جو کویٔی اَچھّا کام کرےگا، خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد، خُداوؔند سے اُس کا اجر پایٔےگا۔ مالِکو! تُم بھی اَپنے خادِموں سے اِسی قِسم کا سلُوک کرو۔ اُنہیں دھمکیاں دینا چھوڑ دو کیونکہ تُم جانتے ہو کہ اُن کا اَور تمہارا دونوں کا مالک آسمان پر ہے، اَور اُس کے یہاں کسی کی طرفداری نہیں ہوتی۔ (اِفِسیوں 6:5-9)
اَورجو کچھ تُم کہتے یا کرتے ہو وہ سَب خُداوؔند یِسوعؔ کے نام سے کرو، اَور خُدا باپ کا شُکر کرتے رہو۔ (کلُسّیِوں 3:17)
جو بھی کام کرو اُسے دِل و جان سے کرو، گویا یہ جان کر کہ خُداوؔند کے لیٔے کر رہے ہو، نہ کہ کسی اِنسان کے لیٔے۔ کیونکہ تُم جانتے ہو کہ خُداوؔند تُمہیں اِس کے عوض میں وعدہ کی ہُوئی مِیراث دے گا۔ کیونکہ تُم واقعی المسیح کی خدمت کر رہے ہو۔ (کلُسّیِوں 3:23-24)

بعض لوگ کام کو بےفائدہ باطل سمجھتے ہیں

اِس دُنیا میں اِنسان اَپنی ساری محنت و مشقّت سے سُورج کے نیچے کیا حاصل کرتا ہے؟ (واعظ 1:3)
مَیں نے بڑے بڑے کام شروع کئے: مَیں نے اَپنے لیٔے مکانات تعمیر کئے اَور تاکستان لگائے۔ مَیں نے باغیچے اَور سَیر گاہیں تیّار کیں اَور اُن میں ہر قِسم کے پھلدار درخت لگائے۔ اَور مَیں نے اَپنے آپ کو کسی بھی چیز سے جِس کی میری آنکھوں نے تمنّا کی، باز نہ رکھا؛ اَور مَیں نے اَپنے دِل کو کسی بھی عیش و عشرت سے باز نہ رکھا۔ میرا دِل میری ساری محنت سے خُوش ہُوا، اَور میری ساری محنت و مشقّت کا یہ اِنعام تھا۔ تاہم جَب مَیں نے اَپنے ہاتھوں کے تمام کاموں کا جائزہ لیا، اُس محنت و مشقّت کا جنہیں مَیں نے کیا تھا تو نتیجہ یہی نِکلا کہ سَب باطِل ہے اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے؛ اَور دُنیا میں اِس کا کویٔی دائمی فائدہ نہیں۔ (واعظ 2:4-5, 10-11)
اِس لیٔے مَیں نے جو بھی محنت و مشقّت اِس دُنیا میں کی تھی اُس سے مُجھے سخت نفرت ہو گئی کیونکہ مُجھے لازماً اُنہیں اَپنے بعد آنے والے شخص کے لیٔے چھوڑنا پڑےگا۔ اَور کون جانتا ہے کہ وہ دانشمند ہوگا یا احمق؟ بہرحال وہ میرے اُن تمام چیزوں کا مالک ہوگا جسے حاصل کرنے کے لیٔے مَیں نے دُنیا میں اَپنی پُوری طاقت و حِکمت خرچ کی ہے۔ یہ بھی باطِل ہی ہے۔ لہٰذا میرا دِل اُن سارے محنت کے کاموں سے جسے مَیں نے دُنیا میں کیا مایوس ہو گیا۔ کیونکہ خواہ کویٔی آدمی اَپنا کام حِکمت، علم اَور ہُنر سے کیوں نہ کرتا ہو، آخِرکار اُسے سَب کچھ لازماً کسی دُوسرے کے لیٔے چھوڑکر جانا پڑتا ہے جِس نے اُس کے لیٔے کچھ محنت ہی نہیں کی۔ یہ بھی باطِل اَور ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ کسی آدمی کو اُن تمام مشقّت اَور جانفشانی کے بدلہ میں جو وہ دُنیا میں کرتا ہے، کیا حاصل ہوتاہے؟ حقیقت میں عمر بھر اُن کی پُوری محنت باعثِ رنج و غم ہے، یہاں تک کہ رات کو بھی اُس کے دِل و ذہن کو سکون نہیں ملتا۔ یہ بھی باطِل ہے۔ آدمی کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے پیئے اَور اَپنی محنت و مشقّت کے پھل کے پھل کا لُطف اُٹھائے اَور خُود کو یقین دِلائے کہ اُس کی محنت فائدہ مند ہے، مَیں نے یہ بھی مَعلُوم کیا ہے کہ اَیسا استحقاق خُدا کی طرف سے ہی نصیب ہوتاہے۔ (واعظ 2:18-24)
چنانچہ کام کرنے والے کو اَپنی محنت و مشقّت سے کیا فائدہ ہوتاہے؟ مَیں نے اُس بھاری بوجھ کو بغور احتیاط سے تفتیش کی ہے جسے خُدا نے بنی آدمؔ کے کندھوں پر رکھا ہے۔ اَور ہر ایک شخص کھائے، پیئے اَور اَپنی تمام محنت و مشقّت کے کاموں کے پھل سے مطمئن رہے۔ یہ بھی خُدا کی طرف سے اِنسانوں کے لیٔے بخشش ہے۔ (واعظ 3:9-10, 13)
اَور مَیں نے یہ بھی پایا کہ ساری محنت اَور ساری کامیابی ہی اِنسان اَور اُس کے ہمسایہ کے درمیان حَسد کی وجہ ہے۔ یہ بھی باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ احمق اَپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہتاہے اَور خُود کو برباد کرتا ہے۔ سکون کے ساتھ حاصل ہونے والی تھوڑی سِی دولت سخت محنت و مشقّت سے حاصل ہونے والی اُس اِفراط دولت سے زِیادہ بہتر ہے جو ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ (واعظ 4:4-6)
پھر مُجھے احساس ہُوا کہ اِنسان کے لیٔے اَچھّا اَور مُناسب یہ ہے کہ خُدا نے دُنیا میں جو چند روزہ زندگی اُسے بخشی ہے، وہ کھائے پیئے اَور اَپنی ساری محنت کا پھل پایٔے کیونکہ یہی اُس کا حِصّہ ہے۔ اِس کے علاوہ جَب خُدا کسی آدمی کو دولت کے ساتھ صحت بھی عطا کرتے ہیں تاکہ وہ اَپنی دولت کا لُطف اُٹھا سکے۔ تو اُسے چاہئے کہ اَپنے کام میں خُوش رہے اَور زندگی میں اَپنے حِصّہ کو قبُول کرے کیونکہ یہ بھی خُدا کی طرف سے ایک بخشش ہے۔ (واعظ 5:18-19)
آدمی کی ساری جدّوجہد اُس کے مُنہ کے لیٔے ہے، پھر بھی اُس کی بھُوک نہیں مٹتی۔ (واعظ 6:7)

ہمارا کام وہی ہونا چاہیے جو خدا نے ہمارے لیے ٹھہرایا ہے

اَور بنی اِسرائیل کے سَب قبیلوں میں سے مَیں نے تیرے باپ کو اَپنا کاہِنؔ ہونے کے لیٔے، اَپنے مذبح کے پاس جانے کے لیٔے، بخُور جَلانے کے لیٔے اَور اَپنی حُضُوری میں افُود پہننے کے لیٔے چُن لیا اَور مَیں نے ہی تیرے آبائی خاندان کے لیٔے سَب غِذا کی نذر بھی مُقرّر کیں جو بنی اِسرائیل آگ سے گزرانتے ہیں۔ (1 شموایلؔ 2:28)
ہمارے خُداوؔند خُدا کا لُطف و کرم ہم پر بنا رہے؛ ہمارے ہاتھوں کے کام ہمارے لیٔے کامیابی لائیں۔ آپ ہمارے ہاتھوں کے کام کو ترقّی بخشیں۔ (زبُور 90:17)
یِسوعؔ نے فرمایا، ”میرا کھانا، یہ ہے کہ جنہوں نے مُجھے بھیجا ہے، میں اُن ہی کی مرضی پُوری کروں اَور اُن کا کام اَنجام دُوں۔ (یُوحنّا 4:34)
اِس خُوراک کے لیٔے جو خَراب ہو جاتی ہے دَوڑ دھوپ نہ کرو، بَلکہ اُس کے لیٔے جو اَبدی زندگی تک باقی رہتی ہے، جو اِبن آدمؔ تُمہیں عطا کرےگا کیونکہ خُدا باپ نے اُن پر مُہر کی ہے۔“ (یُوحنّا 6:27)
”جَب کہ داویؔد اَپنی پُشت میں خُدا کا مقصد پُورا کرنے کے بعد، موت کی نیند سَو گیٔے؛ اَپنے آباؤاَجداد کے ساتھ دفن ہویٔے اَور آپ کا جِسم سڑ گیا۔ (اعمال 13:36)
تو اِنصاف کے دِن اُس کا کام صَاف ظاہر ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ دِن آگ کے ساتھ آئے گا، اَور آگ اَپنے آپ ہر ایک کا کام آزما لے گی کہ کیسا ہے۔ اِس بُنیاد پر جِس کسی بنانے والے کا کام آگ سے سلامت رہے گا وہ اجر پایٔےگا اَور جِس کا کام جَل جائے گا وہ نُقصان تو اُٹھائے گا مگر وہ خُود بچ نکلے گا، پھر بھی وہ جلتے جلتے بھی بچ جائے گا وَیسا ہوگا۔ (1 کُرِنتھِیوں 3:13-15)
کیونکہ ہم خُدا کی کاریگری ہیں اَور ہمیں المسیح یِسوعؔ میں نیک کام کرنے کے لیٔے پیدا کیا گیا ہے، جنہیں خُدا نے پہلے ہی سے ہمارے کرنے کے لیٔے تیّار کر رکھا تھا۔ (اِفِسیوں 2:10)

وہ کام جو خداوند کو جلال دے

مَیں نے اِس کام کو جو آپ نے میرے سُپرد کیا تھا اُس کام کو اَنجام دے کر مَیں نے زمین پر آپ کا جلال ظاہر کیا۔ (یُوحنّا 17:4)

یہ جاننا مفید ہے کہ خداوند نے ہمارے لیے کون سا مخصوص کام رکھا ہے

تو شمعُونؔ پطرس اُن سے کہنے لگے، ”میں تو مچھلی پکڑنے جاتا ہُوں۔“ اُنہُوں نے کہا، ”ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔“ لہٰذا وہ نکلے اَور جا کر کشتی میں سوارہوگئے، مگر اُس رات اُن کے ہاتھ کُچھ بھی نہ آیا۔ صُبح سویرے ہی، یِسوعؔ کنارے پر آ کھڑے ہُوئے، لیکن شاگردوں نے اُنہیں نہیں پہچانا کہ وہ یِسوعؔ ہیں۔ یِسوعؔ نے اُنہیں آواز دے کر کہا، ”دوستوں، کیا کُچھ مچھلیاں ہاتھ آئیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”نہیں۔“ یِسوعؔ نے فرمایا، ”جال کو کشتی کی داہنی طرف ڈالئے تو ضروُر پکڑ سکوگے۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اَیسا ہی کیا اَور مچھلیوں کی کثرت کی وجہ سے جال اِس قدر بھاری ہو گیا کہ وہ اُسے کھینچ نہ سکے۔ تَب یِسوعؔ کے عزیز شاگرد نے پطرس سے کہا، ”یہ تو خُداوؔند ہیں!“ جَیسے ہی شمعُونؔ پطرس نے یہ سُنا، ”یہ تو خُداوؔند ہیں،“ پطرس نے اَپنا کُرتا پہنا (جسے پطرس نے اُتار رکھا تھا) اَور پانی میں کود پڑے۔ دُوسرے شاگرد جو کشتی میں تھے، جال کو جو مچھلیوں سے بھرا ہُوا تھا کھینچتے ہویٔے لایٔے، کیونکہ وہ کنارے سے، تقریباً سَو مِیٹر سے زِیادہ دُور نہ تھے۔ جَب وہ کنارے پر اُترے تو دیکھا کہ کوئلوں کی آگ پر مچھلی رکھی ہے، اَور پاس ہی روٹی بھی ہے۔ یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”جو مچھلیاں تُم نے ابھی پکڑی ہیں اُن میں سے کُچھ یہاں لے آؤ۔“ شمعُونؔ پطرس کشتی پر چڑھ گیٔے اَور جال کو کنارے پر کھینچ لایٔے جو ایک سَو ترپن، بڑی بڑی مچھلیوں سے بھرا ہُوا تھا، پھر بھی وہ پھٹا نہیں۔ (یُوحنّا 21:3-11)

خداوند کے بغیر کام بےکار ہے

نغمۂ صعُود (ہیکل کی زیارت کا نغمہ)۔ اَز شُلومونؔ۔ اگر یَاہوِہ گھر نہ بنائیں، تو بنانے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر یَاہوِہ ہی شہر کی حِفاظت نہ کریں، تو نگہبانوں کا جاگنا عبث ہے۔ (زبُور 127:1)
تُم جو کچھ کرو اُسے یَاہوِہ کے سُپرد کر دو، تَب تمہارے منصُوبے کامیاب ہوں گے۔ (امثال 16:3)

کام میں خود غرضانہ عزائم نہیں ہونے چاہییں

خُدا ”ہر شخص کو اُس کے اعمال کے مُطابق بدلہ دے گا۔“ لیکن جو خُود غرض ہیں اَور سچّائی کو ترک کرکے بدی کی پیروی کرتے ہیں، اُن پر خُدا کا قہر اَور غضب نازل ہوگا۔ (رُومیوں 2:6, 8)
لیکن خواہ ہم اَپنے گھر میں ہوں خواہ اُس سے دُور، ہمارا مقصد تو خُداوؔند کو خُوش رکھناہے۔ کیونکہ ہم سَب کو المسیح کی عدالت میں پیش ہوناہے، تاکہ ہر شخص اَپنے اَچھّے یا بُرے اعمال کا جو اُس نے اَپنے بَدن سے دُنیا میں کیٔے ہیں، بدلہ پایٔے۔ (2 کُرِنتھِیوں 5:9-10)
لیکن اگر تُم اَپنے دِل میں سخت جلن اَور خُود غرضی رکھتے ہو تو حق کے خِلاف شیخی نہ مارو، اَور نہ ہی جھُوٹ بولو۔ اَیسی حِکمت آسمان کی طرف سے نہیں اُترتی، بَلکہ دُنیوی، نَفسانی اَور شیطانی ہوتی ہے۔ کیونکہ جہاں جلن اَور خُود غرضی ہوتی ہے وہاں فساد اَور ہر طرح کا بُرا کام بھی پایا جاتا ہے۔ (یعقوب 3:14-16)

اپنے لیے بڑائی نہ چاہیں

کیا تُم اَپنے لیٔے خاص مہربانی ڈھونڈ رہے ہو؟ اُنہیں مت ڈھونڈو کیونکہ مَیں تمام لوگوں پر بڑی آفت لاؤں گا۔ لیکن تُم جہاں کہیں جاؤگے، وہاں میں تُمہیں تمہاری جان بچا کر تُمہیں زندہ رکھوں گا، یَاہوِہ کا فرمان یہ ہے۔‘ “ (یرمیاہؔ 45:5)

مضبوط اور دلیر بنیں اور ٹال مٹول نہ کریں

اِس لیٔے مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو کیونکہ تُم اِن لوگوں کے اُس مُلک کا وارِث بننے کے لیٔے رہنمائی کروگے جسے اُنہیں دینے کی مَیں نے اُن کے آباؤاَجداد سے قَسم کھائی ہے۔ ”پس زور پکڑو اَور نہایت دِلیر ہو جاؤ اَور اُس سارے آئین پر احتیاط کے ساتھ عَمل کرو جو میرے خادِم مَوشہ نے تُمہیں دیا اَور اُس سے نہ تو داہنے ہاتھ مُڑنا اَور نہ بائیں تاکہ جہاں کہیں تُم جاؤ کامیاب ہو جاؤ۔ (یہوشُعؔ 1:6-7)
اَور وُہی میرے نام کے لیٔے ایک گھر تعمیر کرےگا۔ وہ میرا بیٹا ہوگا اَور مَیں اُس کا باپ ہوں گا۔ اَور مَیں بنی اِسرائیل پر اُس کی بادشاہی کا تخت اَبد تک قائِم رکھوں گا۔‘ تَب تُم اِقبالمند ہوگے بشرطیکہ تُم اُن قوانین اَور آئین پرجو یَاہوِہ نے مَوشہ کو اِسرائیل کے لیٔے دئیے احتیاط کے ساتھ عَمل کرو۔ چنانچہ مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو اَور خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو۔ سونا، چاندی، کانسے اَور لوہے میں بھی صنعت کاروں کی کثرت ہے۔ اَب اُٹھو اَور کام شروع کر دو اَور یَاہوِہ تمہارے ساتھ رہیں۔“ (1 تواریخ 22:10, 13, 16)
اَور داویؔد نے اَپنے بیٹے شُلومونؔ سے یہ بھی فرمایا، ”مضبُوط ہو جاؤ اَور حوصلہ رکھو اَور اِس کام کو اَنجام دو۔ خوف نہ کرو اَور ہِراساں نہ ہو کیونکہ یَاہوِہ خُدا، میرے خُدا تمہارے ساتھ ہیں۔ اَور جَب تک یَاہوِہ کے بیت المُقدّس کی خدمت کا سارا کام پُورا نہ ہو جائے وہ تُمہیں نہ تو ہِراساں کریں گے، نہ ترک کریں گے۔ (1 تواریخ 28:20)
مگر تُم لوگ مضبُوط بنو اَور اَپنے ہاتھوں کو ڈھیلے نہ ہونے دو کیونکہ تُم اَپنے کام کا اجر پاؤگے۔“ (2 تواریخ 15:7)
لیکن اَے زرُبّابِیل اَب مضبُوط ہو جا،‘ یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں، ’اَور اَے یہُوصدقؔ کے بیٹے، اعلیٰ کاہِن یہوشُعؔ ہمّت رکھ۔ اَے مُلک کے سَب لوگوں یَاہوِہ اعلان کرتے ہیں کام شروع کرو اَور ہمّت رکھو کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہُوں،‘ قادرمُطلق یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں۔ (حگّیؔ 2:4)

خداوند کا دیا ہوا کام کرتے ہوئے ہمیں مشکلات پیش آئیں گی

تَب اُن کے اِردگرد کے لوگ یہُوداہؔ کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنے اَور اُنہیں تعمیر کرنے سے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔ وہ خورشؔ شاہِ فارسؔ کے تمام دَورِ حُکومت سے لے کر داریاویشؔ شاہِ فارسؔ کے دَورِ حُکومت تک اُن کے خِلاف کاروائی کرنے اَور اُن کی تجاویز کو ناکام بنانے کے لیٔے مُشیروں کو رشوت دیتے رہے۔ (عزرا 4:4-5)
مالدار ہونے کے لیٔے دَوڑ دھوپ نہ کرو؛ بَلکہ حِکمت سے کام لو اَور خُود پر قابُو پا لو۔ (امثال 23:4)
جَب ہمارے دُشمنوں کو بھی مَعلُوم ہو گیا کہ ہمیں اُن کی سازش کا پتا چل گیا ہے اَور خُدا نے اُن کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے، تو ہم سَب اَپنے اَپنے کام پر فصیل کی طرف لَوٹ آئے۔ اُس دِن کے بعد سے میرے آدھے آدمی کام کرتے اَور باقی آدھے نیزوں، ڈھالوں، کمانوں اَور زرہ بکتر سے مُسلّح رہتے اَور وہ جو حاکم تھے یہُوداہؔ کے سارے لوگوں کے پیچھے مَوجُود رہتے تھے۔ جو فصیل تعمیر کر رہے تھے۔ اَور وہ جو بوجھ اُٹھاتے اَور ڈھوتے تھے اُن میں سے ہر ایک اَپنے ایک ہاتھ سے کام کرتا تھا اَور دُوسرے ہاتھ میں ہتھیار لیٔے رہتا تھا۔ اَور مِعماروں میں سے ہر ایک کام کرتے وقت اَپنی کمر پر تلوار باندھے رہتا تھا لیکن نرسنگا پھُونکنے والا آدمی میرے پاس مَوجُود رہتا تھا۔ پھر مَیں نے اُمرا، حُکاّم اَور باقی لوگوں سے کہا، ”کام بہت بڑا ہے اَور دُور تک پھیلا ہُواہے اَور ہم فصیل پر الگ الگ ایک دُوسرے سے دُور رہتے ہیں۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی تُم نرسنگے کی آواز سُنو وہاں سے آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ اَور ہمارے خُدا ہماری طرف سے لڑیں گے۔“ یُوں ہم پَو پھٹنے سے لے کر تاروں کے نکلنے تک آدھے نیزہ بردار آدمیوں کے ساتھ کام جاری رکھتے تھے۔ اُس وقت مَیں نے لوگوں سے یہ بھی کہا، ”ہر ایک آدمی اَپنے مددگار کے ہمراہ رات کو یروشلیمؔ کے اَندر ٹھہرے تاکہ رات کو وہ ہمارے لیٔے پہرا دیا کریں اَور دِن کو کام کیا کریں۔“ (نحمیاہ 4:15-22)
اِس لیٔے مَیں نے اِس جَواب کے ساتھ اُن کی طرف قاصِد بھیجے: ”میں ایک بڑے منصُوبہ پر کام میں مصروف ہُوں اِس لیٔے نہیں آسکتا۔ یہ کام چھوڑکر تمہارے پاس میرے آنے سے کام کیوں بندہو؟“ وہ سَب یہ سوچ کر ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے، ”ہمارے ہاتھ کام کرنے کے لیٔے کمزور پڑ جایٔیں، لہٰذا کام مُکمّل نہیں ہو پایٔےگا۔“ لیکن مَیں نے دعا کی، ”میرے ہاتھوں کو مضبُوط کیجئے۔“ (نحمیاہ 6:3, 9)

محنت سے کام کریں

کاہل آدمی اَپنے شِکار کو بھُونتا بھی نہیں، لیکن محنتی آدمی بیش قیمتی دولت پاتاہے۔ (امثال 12:27)
جو کچھ بھی تمہارے ہاتھوں کو کرنا پڑے اُسے اَپنی ساری قُوّت سے کرو کیونکہ قبر میں جہاں تُم جانے کو ہو وہاں نہ کویٔی کام ہے نہ ہی کویٔی منصُوبہ؛ نہ علم ہے نہ حِکمت۔ (واعظ 9:10)
صُبح کو اَپنا بیج بوؤ، اَور شام کو بھی اَپنے ہاتھوں کو بیکار نہ رہنے دو، کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ کون سا کامیاب ہوگا، یہ یا وہ، یا دونوں ہی یکساں برومند ہوں گے۔ (واعظ 11:6)

محنتی لوگوں کی مثالیں

”پچھلے بیس بَرس سے اَب تک میں آپ کے ساتھ رہا ہُوں اُس دَوران نہ تو کبھی آپ کی بھیڑوں اَور بکریوں کے بچّے ضائع ہویٔے اَور نہ ہی مَیں نے آپ کے گلّوں کے مینڈھوں کا گوشت کھایا۔ میں آپ کے پاس کبھی اَیسے جانور لے کر نہیں آیا جنہیں درندوں نے پھاڑ ڈالا ہو، وہ نُقصان مَیں نے ہی برداشت کیا۔ جو جانور دِن یا رات کو چوری جاتا تھا اُس کی قیمت بھی آپ نے مُجھ ہی سے طلب کی۔ میرا حال تو اَیسا تھا کہ دِن کو گرمی اَور رات کو سردی مُجھے نڈھال کردیتی تھی اَور میری راتوں کی نیند حرام ہو گئی تھی۔ (پیدائش 31:38-40)
مَیں نے اُنہیں اَپنے اُوپر خُدا کے مہربان ہاتھ کے متعلّق بھی بتایا اَور یہ بھی بتایا کہ بادشاہ نے مُجھ سے کیا کیا باتیں کہی تھیں۔ اُنہُوں نے کہا، ”آؤ ہم اُٹھیں۔“ اَور دوبارہ تعمیر شروع کریں۔ چنانچہ اُنہُوں نے یہ نیک کام شروع کیا۔ (نحمیاہ 2:18)
پس ہم نے فصیل کو دوبارہ تعمیر کیا یہاں تک کہ وہ اَپنی آدھی اُونچائی تک پہُنچ گئی کیونکہ لوگوں نے خُوب دِل لگا کر کام کیا تھا۔ (نحمیاہ 4:6)
تُم خُود جانتے ہو کہ میرے اَپنے ہاتھوں نے میری اَپنی اَور میرے ساتھیوں کی ضروُرتیں پُوری کی ہیں۔ (اعمال 20:34)
ہم اِس وقت تک بھُوکے پیاسے ہیں، چیتھڑے پہنتے ہیں، مُکّے کھاتے اَور مارے مارے پھرتے، ہم بے گھر ہیں۔ ہم اَپنے ہاتھوں سے سخت محنت کرتے ہیں۔ لوگ ہمیں بُرا کہتے ہیں اَور ہم اُنہیں برکت دیتے ہیں۔ جَب ہم ستائے جاتے ہیں تو صبر سے کام لیتے ہیں۔ (1 کُرِنتھِیوں 4:11-12)
مَیں نے محنت کی ہے، مشقّت سے کام لیا ہے، اکثر نیند کے بغیر رہا ہُوں؛ مَیں نے بھُوک پیاس برداشت کرکے اکثر فاقہ کیا؛ مَیں نے سردی میں بغیر کپڑوں کے گزارا کیا ہے۔ (2 کُرِنتھِیوں 11:27)
اَور اِسی مقصد سے میں المسیح کی اُس عظیم قُوّت کے مُوافق جو مُجھ میں تاثیر کرتی ہے، جانفشانی سے سخت محنت اَور جدّوجہد کرتا ہُوں۔ (کلُسّیِوں 1:29)
اَے بھائیوں اَور بہنوں! جَب ہم تمہارے درمیان رہ کر الٰہی خُوشخبری سُنا رہے تھے تو تُمہیں ہماری وہ محنت اَور مشقّت ضروُر یاد ہوگی جَب ہم روز رات دِن اَپنے ہاتھوں سے کام کرتے تھے تاکہ کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ (1 تھِسّلُنیِکیوں 2:9)
ہم کسی کی مُفت کی روٹی نہیں کھاتے تھے۔ بَلکہ، رات دِن محنت مشقّت کرتے تھے، تاکہ ہم تُم میں سے کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ (2 تھِسّلُنیِکیوں 3:8)

بھوک ہمیں کام پر آمادہ کرتی ہے

مزدُور کی بھُوک اُس سے مزدُوری کراتی ہے؛ اَور اُس کی بھُوک اُسے اُبھارتی رہتی ہے۔ (امثال 16:26)

محنتی کو سب سے پہلے اجرت ملنی چاہیے

جو کِسان سخت محنت کرتا ہے، پہلے اُسی کو پیداوار کا حِصّہ مِلنا چاہئے۔ (2 تِیمُتھِیُس 2:6)

کام/محنت کے فوائد

ضروریات پوری ہوتی ہیں

جو اَپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے، وہ کثرت سے خُوراک پایٔےگا، لیکن جو خیالی پُلاؤ پکاتا رہتاہے مُحتاج رہے گا۔ (امثال 12:11)
جو اَنجیر کے درخت کی حِفاظت کرتا ہے، وہ اُس کا پھل کھائے گا، اَورجو اَپنے آقا کا خیال رکھتا ہے، عزّت پایٔےگا۔ (امثال 27:18)
جو اَپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے، کثرت سے خُوراک پایٔےگا، لیکن جو خیالی پُلاؤ پکاتا رہتاہے، مفلسی سے دوچار ہوگا۔ (امثال 28:19)

منافع اور دولت

کاہل ہاتھ اِنسان کو مُفلس بنا دیتے ہیں، لیکن محنتی ہاتھ دولت لاتے ہیں۔ جو گرمی کے دِنوں میں فصل جمع کرتا ہے وہ دانا بیٹا ہے، لیکن جو فصل کاٹنے کے وقت سوتا رہتاہے وہ باعث شرم ہے۔ (امثال 10:4-5)
بےایمانی سے حاصل کی ہُوئی دولت گھٹ جاتی ہے، لیکن محنت سے جمع کیا ہُوا رُوپیہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ (امثال 13:11)
ہر طرح کی مشقّت میں منافع ہے، لیکن خالی باتیں کرنا غربت تک پہُنچاتا ہے۔ (امثال 14:23)
محنتی آدمی کے منصُوبے منافع بخش ہوتے ہیں، لیکن جلدبازی کا نتیجہ یقیناً مفلسی ہوتاہے۔ (امثال 21:5)

سیر جان

کاہل آدمی آرزُو کرتا ہے پر کچھ نہیں پاتا، لیکن محنت کش کی تمنّائیں پُوری ہو جاتی ہیں۔ (امثال 13:4)

قیادت

محنتی ہاتھوں والے حُکمرانی کریں گے، لیکن کاہل آدمی غُلام بَن کر رہ جایٔیں گے۔ (امثال 12:24)

پرسکون نیند

ایک مزدُور کی نیند میٹھی ہوتی ہے، خواہ وہ کم کھائے یا زِیادہ، لیکن دولتمند کی فراوانی اُسے سونے نہیں دیتی۔ (واعظ 5:12)

خوشی

نغمۂ صعُود۔ عبادت کے لئے مُسافری نغمہ۔ مُبارک ہیں وہ جو یَاہوِہ سے ڈرتے ہیں، اَور اُن کی راہوں پر چلتے ہیں۔ تُم اَپنی محنت کا پھل کھاؤگے؛ اَور برکت اَور سعادت مندی تمہارے قدم چُومے گی۔ (زبُور 128:1-2)

حد سے زیادہ کام نہ کریں

تُم خوامخواہ سویرے جلد اُٹھتے ہو، اَور رات کو دیر تک جاگتے رہتے ہو، اَور مشقّت کی روٹی کھاتے ہو۔ کیونکہ جِن سے یَاہوِہ مَحَبّت رکھتے ہیں اُنہیں آرام کی نیند بھی بخشتے ہیں۔ (زبُور 127:2)

دولتمند بننے کے لیے حد سے زیادہ محنت نہ کریں

مالدار ہونے کے لیٔے دَوڑ دھوپ نہ کرو؛ بَلکہ حِکمت سے کام لو اَور خُود پر قابُو پا لو۔ (امثال 23:4)

سستی کی مذمت

اَے کاہل! چیونٹی کے پاس جا؛ اَور اُس کی روِشوں پر غور کر اَور دانشمند بَن جا! اُس کا کویٔی قائد نہیں ہوتا، نہ ہی کویٔی نِگراں یا حاکم ہوتاہے، تو بھی وہ گرمی کے موسم میں اَپنی خُوراک بٹورتی ہے اَور فصل کٹتے وقت اَپنے لیٔے غِذا جمع کرتی ہے۔ (امثال 6:6-8)
جو گرمی کے دِنوں میں فصل جمع کرتا ہے وہ دانا بیٹا ہے، لیکن جو فصل کاٹنے کے وقت سوتا رہتاہے وہ باعث شرم ہے۔ (امثال 10:5)
جِس طرح سِرکہ دانتوں کے لیٔے اَور دُھواں آنکھوں کے لیٔے باعثِ پریشانی ہوتاہے، وَیسا ہی سُست آدمی اَپنے بھیجنے والوں کے لیٔے ہے۔ (امثال 10:26)
کاہل آدمی اَپنے شِکار کو بھُونتا بھی نہیں، لیکن محنتی آدمی بیش قیمتی دولت پاتاہے۔ (امثال 12:27)
کاہل کی راہ میں کانٹے بچھے ہوتے ہیں، لیکن راستباز کی راہ، شاہراہ کی طرح ہموار ہوتی ہے۔ (امثال 15:19)
جو کوئی اِنسان اَپنے کام میں سُستی کرتا ہے وہ تباہ کرنے والے کا بھایٔی ہے۔ (امثال 18:9)
کاہل اَپنا ہاتھ تھالی میں تو ڈالتا ہے؛ لیکن اِتنا بھی نہیں کرتا کہ پھر اُسے اُٹھاکر اَپنے مُنہ تک لایٔے۔ (امثال 19:24)
کاہل کہتاہے: ”شیر باہر کھڑا ہے! یا میں کوچوں میں قتل کر دیا جاؤں گا!“ (امثال 22:13)
کاہل کہتاہے، ”شیر راہ میں ہے، شیر گلیوں میں گھُوم رہاہے!“ جِس طرح دروازہ اَپنی چُولوں پر گھُومتا ہے، اُسی طرح کاہل اَپنے بِستر پر کروٹ بدلتا رہتاہے۔ کاہل اَپنا ہاتھ تھالی میں تو ڈالتا ہے؛ لیکن سُستی کے باعث اُسے واپس مُنہ تک نہیں لاتا۔ کاہل اَپنے آپ کو مُدلّل جَواب دینے والے سات شَخصوں سے بھی زِیادہ دانا سمجھتا ہے۔ (امثال 26:13-16)

سستی کے نتائج

بھوک

سُستی گہری نیند طاری کرتی ہے، اَور کاہل آدمی بھُوکا رہتاہے۔ (امثال 19:15)
کاہل آدمی وقت پر ہل نہیں چلاتا؛ اِس لیٔے فصل کاٹنے کے وقت وہ ڈھونڈتا ہے لیکن کچھ نہیں پاتا۔ (امثال 20:4)

غربت

اَے کاہل! تُو کب تک وہاں پڑا رہے گا؟ تُو اَپنی نیند سے کب بیدار ہوگا؟ تھوڑی سِی نیند، ذرا سِی جھپکی، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے پڑے رہنا۔ تَب تُم پر راہزن کی مانند مفلسی اَور مُسلّح آدمی کی مانند تنگ دستی آ پڑےگی۔ (امثال 6:9-11)
کاہل ہاتھ اِنسان کو مُفلس بنا دیتے ہیں، لیکن محنتی ہاتھ دولت لاتے ہیں۔ (امثال 10:4)
ہر طرح کی مشقّت میں منافع ہے، لیکن خالی باتیں کرنا غربت تک پہُنچاتا ہے۔ (امثال 14:23)
نیند کا عزیز نہ ہو ورنہ تُم مُفلس ہو جاؤگے؛ اَپنی آنکھیں کھُلی رکھو، اَور تمہارے پاس ضروُرت سے زائد خُوراک ہوگی۔ (امثال 20:13)
کیونکہ متوالوں اَور پیٹو مُفلس ہو جایٔیں گے، اَور نیند اُنہیں چیتھڑے پہنائے گی۔ (امثال 23:21)
ایک کاہل آدمی کے کھیت کے پاس سے، اَور ایک بے عقل کے تاکستان کے پاس سے میرا گزر ہُوا؛ وہاں ہر جگہ کانٹے اُگے ہُوئے تھے، اَور زمین بِچھُّو بُوٹی سے ڈھکی پڑی تھی، اَور اُس کی پتھّروں کی دیوار گِر چُکی تھی۔ مَیں نے جو کچھ دیکھا اُس پر نہایت سنجِیدگی سے غور کیا، اَورجو کچھ دیکھا اُس سے یہ عِبرت حاصل کی؛ تھوڑی سِی نیند، ذرا سِی جھپکی، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے پڑے رہنا۔ تَب تُم پر راہزن کی مانند مفلسی اَور مُسلّح آدمی کی مانند تنگ دستی آ پڑےگی۔ (امثال 24:30-34)
اگر کویٔی آدمی کاہل ہے تو چھت کی کڑیاں جھُک جاتی ہیں؛ اگر اُس کے ہاتھ ڈھیلے ہُوں تو مکان ٹپکتا ہے۔ (واعظ 10:18)

موت

کاہل کی تمنّا اُس کی موت کا باعث بَن جاتی ہے، کیونکہ اُس کے ہاتھ محنت کرنے سے اِنکار کرتے ہیں۔ (امثال 21:25)

بھوکی جان

کاہل آدمی آرزُو کرتا ہے پر کچھ نہیں پاتا، لیکن محنت کش کی تمنّائیں پُوری ہو جاتی ہیں۔ (امثال 13:4)

بیگار

محنتی ہاتھوں والے حُکمرانی کریں گے، لیکن کاہل آدمی غُلام بَن کر رہ جایٔیں گے۔ (امثال 12:24)

آرام اور عبادت کے لیے کام سے وقت نکالیں

سبت

خداوند نے سبت مقرر کیا

ساتویں دِن تک خُدا نے اُس کام کو پُورا کیا جسے وہ کر رہے تھے؛ چنانچہ ساتویں دِن وہ اَپنے سارے کام سے فارغ ہُوئے۔ اَور خُدا نے ساتویں دِن کو برکت دی اَور اُسے مُقدّس ٹھہرایا، کیونکہ اُس دِن خُدا نے تخلیقِ کائِنات کے سارے کام سے فراغت پائی۔ (پیدائش 2:2-3)
کیونکہ چھ دِن میں یَاہوِہ نے آسمانوں کو، اَور زمین اَور سمُندر کو اَورجو کچھ اُن میں مَوجُود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ لیکن ساتویں دِن آرام کیا۔ پس یَاہوِہ نے سَبت کے دِن کو برکت دی اَور اُسے مُقدّس ٹھہرایا۔ (خُروج 20:11)
یہ میرے اَور بنی اِسرائیل کے درمیان ہمیشہ کے لیٔے ایک نِشان ہوگا کیونکہ یَاہوِہ نے آسمانوں کو اَور زمین کو چھ دِنوں میں بنایا اَور ساتویں دِن کام چھوڑکر آرام کیا۔‘ “ (خُروج 31:17)
کیونکہ خُدا نے ساتویں دِن کی بابت کِتاب مُقدّس میں یُوں فرمایا، ”چنانچہ ساتویں دِن وہ اَپنے سارے کام سے فارغ ہُوا۔“ کیونکہ جو کویٔی خُدا کے آرام میں داخل ہوتاہے وہ خُدا کی طرح اَپنے کاموں کو پُورا کرکے آرام کرتا ہے۔ (عِبرانیوں 4:4, 10)

پرانے عہد نامے میں سبت لازم تھا

اَور تُم اَپنا مُقدّس اِجتماع ایک تو پہلے دِن کرنا اَور دُوسرا ساتویں دِن اَور ہر ایک کے کھانے کے لیٔے کھانا بنانے کے سِوا اِن دِنوں میں اَور کویٔی کام بالکُل نہ کرنا۔ تُم صِرف کھانا بنانے کا ہی کام کر سکتے ہو۔ (خُروج 12:16)
چھ دِن تک تُم محنت سے اَپنا سارا کام کاج کرنا۔ لیکن ساتواں دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کا سَبت ہے۔ اُس دِن نہ تُم کویٔی کام کرنا نہ تمہارا بیٹا یا بیٹی نہ تمہارا غُلام یا خادِمائیں نہ تمہارے چَوپائے اَور نہ کویٔی پردیسی جو تمہارے پھاٹکوں کے اَندر رہتا ہو، تاکہ تمہارے خادِم اَور خادِمائیں تمہاری طرح آرام کریں۔ (خُروج 20:9-10)
”چھ دِن اَپنا کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن کویٔی کام نہ کرنا تاکہ تمہارے بَیل اَور تمہارے گدھے کو آرام ملے اَور تمہارا خانہ زاد غُلام اَور وہ پردیسی جو تمہارے یہاں ٹھہرا ہو، تازہ دَم ہو جایٔے۔ (خُروج 23:12)
”تُم چھ دِن کام کاج کرنا لیکن ساتویں دِن آرام کرنا ہل چلانے اَور فصل کاٹنے کے موسم کے دَوران بھی ضروُر آرام کرنا۔ (خُروج 34:21)
چھ دِن کام کاج کیا جائے لیکن ساتواں دِن تمہارے لیٔے مُقدّس ہوگا یعنی یَاہوِہ کے آرام کا سَبت۔ اَورجو کویٔی اُس دِن کچھ کام کرے وہ مار ڈالا جائے۔ (خُروج 35:2)
” ’چھ دِن ہیں جِن میں تُم کام کاج کر سکتے ہو لیکن ساتواں دِن مُکمّل آرام کا سَبت اَور مُقدّس اِجتماع کا دِن ہے۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی تمہاری رہائش ہو تُم اُس دِن کویٔی بھی کام نہ کرنا کیونکہ یہ یَاہوِہ کے لیٔے ایک سَبت ہوگا۔ (اَحبار 23:3)
چھ دِن تک تُم محنت سے اَپنا سارا کام کاج کرنا۔ لیکن ساتواں دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کا سَبت ہے۔ اُس دِن نہ تُم کویٔی کام کرنا، نہ تمہارا بیٹا یا بیٹی نہ تمہارا غُلام یا خادِمائیں نہ تمہارے چَوپائے نہ تمہارا بَیل، نہ گدھا اَور نہ کویٔی پردیسی جو تمہارے پھاٹکوں کے اَندر رہتا ہو، تاکہ تمہارے خادِم اَور خادِمائیں تمہاری طرح آرام کریں۔ (اِستِثنا 5:13-14)
”اگر پڑوسی مُلک تِجارت کا سامان یا اناج بیچنے کے لیٔے سَبت کے دِن لائیں تو ہم سَبت کے دِن یا کسی مُقدّس دِن اُسے اُن سے ہرگز نہ خریدیں گے۔ ہر ساتویں سال ہم زمین نہیں جوتیں گے اَور قرض دی ہُوئی رقم مُعاف کر دیں گے۔ (نحمیاہ 10:31)
یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں، خیال رہے کہ تُم سَبت کے دِن نہ کویٔی بوجھ اُٹھاؤ اَور نہ اُسے یروشلیمؔ کے پھاٹکوں سے اَندر لاؤ۔ اَپنے گھروں سے کویٔی بوجھ باہر نہ لاؤ، اَور نہ سَبت کے دِن کویٔی کام کرو بَلکہ سَبت کے دِن کو مُقدّس جانو جَیسا کہ مَیں نے تمہارے آباؤاَجداد کو حُکم دیا تھا۔ لیکن یَاہوِہ فرماتے ہیں، اگر تُم احتیاط برتو اَور میرا حُکم مانو اَور سَبت کے دِن اِس شہر کے پھاٹکوں سے کویٔی بوجھ نہ لاؤ اَور سَبت کے دِن کسی طرح کا کام کاج نہ کرکے اُس دِن کو مُقدّس مانو، (یرمیاہؔ 17:21-22, 24)

سبت نہ ماننے کی سزا

چھ دِن کام کیا جائے، لیکن ساتواں دِن آرام کا سَبت ہے جو یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس ہے۔ جو اِنسان سَبت کے دِن کویٔی کام کرے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔ (خُروج 31:15)
جَب بنی اِسرائیل بیابان میں رہتے تھے تَب ایک شخص سَبت کے دِن لکڑیاں جمع کرتا ہُوا پایا گیا۔ جنہوں نے اُسے لکڑیاں جمع کرتے ہویٔے پایاتھا وہ اُسے مَوشہ اَور اَہرونؔ اَور ساری جماعت کے پاس لے آئے اَور اُنہُوں نے اُسے حِراست میں رکھا کیونکہ یہ واضح نہ تھا کہ اُس کے ساتھ کیا سلُوک کیا جائے۔ تَب یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”یہ آدمی مار ڈالا جائے۔ ساری جماعت چھاؤنی کے باہر اُسے سنگسار کرے۔“ (گِنتی 15:32-35)
اُن ہی دِنوں میں، مَیں نے دیکھا کہ یہُوداہؔ میں بعض لوگ سَبت کے دِن بھی انگور کُچلتے اَور اُن کا رس مے کے حوض سے نکالتے ہیں اَور اناج، مَے، انگور، اَنجیر اَور دیگر اَشیا کے بوجھ گدھوں پر لادتے ہیں۔ وہ یہ سَب کچھ سَبت کے دِن یروشلیمؔ میں لاتے ہیں۔ لہٰذا مَیں نے اُنہیں سخت تنبیہ کی کہ سَبت کے دِن اشیائے خُوردنی ہرگز فروخت نہ کی جایٔیں۔ صُورؔ کے لوگ جو یروشلیمؔ میں رہتے تھے وہ بھی مچھلی اَور ہر قِسم کا مالِ تِجارت یروشلیمؔ میں لاکر سَبت کے دِن یہُوداہؔ کے لوگوں کو فروخت کرتے تھے۔ مَیں نے یہُوداہؔ کے اُمرا کو ڈانٹا اَور اُنہیں کہا، ”تُم اَیسی بُری حرکت کیوں کرتے ہو جِس سے سَبت کی بےحُرمتی ہوتی ہے؟ یہی تمہارے آباؤاَجداد نے کیا جِس کے باعث ہمارے خُدا یہ تمام آفات ہم پر اَور اِس یروشلیمؔ شہر پر لائے۔ اَب تُم سَبت کی بےحُرمتی کرکے اِسرائیل پر پہلے سے بھی زِیادہ غضب لانے کا باعث بَن رہے ہو۔“ (نحمیاہ 13:15-18)
”جَب تُم اُنہیں یہ سَب بتاؤ گے تو وہ تمہاری بات نہ سُنیں گے اَور جَب تُم اُنہیں پُکارو گے تَب وہ جَواب نہ دیں گے۔ (یرمیاہؔ 7:27)

سبت کا سال

”چھ سال تک تُم اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور فصل کاٹنا۔ لیکن ساتویں سال اُس زمین میں نہ تو ہل چلانا اَور نہ اُسے اَپنے اِستعمال میں لانا تمہارے لوگوں میں جو ضروُرت مند ہُوں وہ اُس میں سے خُوراک حاصل کرنے کے لئے چھوڑیں۔ اَورجو اُن سے بچ رہے اُسے جنگلی جانور چَر لیں۔ اَپنے انگور کے باغ اَور اَپنے زَیتُون کے باغ سے بھی اَیسا ہی کرنا۔ (خُروج 23:10-11)
اَور یَاہوِہ نے کوہِ سِینؔائی پر مَوشہ سے فرمایا، ”بنی اِسرائیل کو یہ حُکم دو: ’جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو، جو میں تُمہیں دینے والا ہُوں، تو وہاں کی زمین بھی یَاہوِہ کے لیٔے سَبت منائے۔ تُم چھ سال تک اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور چھ سال تک اَپنے انگوری باغ کو چھانٹنا اَور اُن کے پھل جمع کرنا۔ لیکن ساتویں سال زمین کے لیٔے آرام کا سَبت ہو؛ یعنی یَاہوِہ کے لیٔے سَبت۔ لہٰذا ساتویں سال تُم نہ تو اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور نہ اَپنے انگوری باغ کو چھانٹنا۔ اَور نہ اَپنی خُودرَو فصل کو کاٹنا اَور نہ بے چھٹی تاکوں کے انگوروں کو توڑنا؛ چنانچہ یہ زمین کے لیٔے ایک خاص آرام کا سال ہوگا۔ (اَحبار 25:1-5)
”اگر پڑوسی مُلک تِجارت کا سامان یا اناج بیچنے کے لیٔے سَبت کے دِن لائیں تو ہم سَبت کے دِن یا کسی مُقدّس دِن اُسے اُن سے ہرگز نہ خریدیں گے۔ ہر ساتویں سال ہم زمین نہیں جوتیں گے اَور قرض دی ہُوئی رقم مُعاف کر دیں گے۔ (نحمیاہ 10:31)

سبت کا سال نہ ماننے کے نتائج

جَب تک تُم اَپنے دُشمنوں کے مُلک میں رہوگے، تَب تک یہ زمین آرام کرےگی اَور اَپنے سَبت کے سال منائے گی۔ (اَحبار 26:34)
لیکن اُن کے نکل جانے کی وجہ سے یہ مُلک ویران ہو جایٔےگا تاکہ یہ زمین اَپنے سَبتوں کے نُقصان کو پُورا کر لے۔ اِسی دَوران وہ اَپنے گُناہوں کا کفّارہ کریں گے؛ کیونکہ اُنہُوں نے میرے آئین کو مُسترد کیا اَور میرے قوانین سے نفرت کی تھی۔ (اَحبار 26:43)

یوبلی کا سال

پچاسواں بَرس تمہارے لیٔے یوویلؔ کا سال ہو؛ اِس سال تُم نہ تو کچھ بیج بونا، اَور نہ اَپنے آپ پیدا ہوئی فصل کاٹنا اَور نہ بِنا چھٹی تاکوں کے انگور جمع کرنا۔ (اَحبار 25:11)

پرانے عہد نامے کی مذہبی عیدیں

عیدِ فسح

پہلے دِن مُقدّس اِجتماع ہو اَور عام دِنوں کی طرح کویٔی کام بالکُل نہ کرنا۔ (گِنتی 28:18)
ساتویں دِن پھر تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور حسبِ معمول کویٔی کام نہ کرنا۔ (گِنتی 28:25)
تُم چھ دِن تک بے خمیری روٹی کھایا کرنا اَور ساتویں دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کے واسطے مُقدّس اِجتماع ہو، اَور اُس دِن تُم کویٔی کام نہ کرنا۔ (اِستِثنا 16:8)

یومِ کفارہ

”اَور تمہارے لیٔے یہ ایک دائمی فرمان ہوگا: تُم ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو اَپنی اَپنی جان کو دُکھ دینا اَور کویٔی بھی خواہ وہ مُلک اِسرائیل کا باشِندہ ہو یا غَیراِسرائیلی جو تمہارے درمیان رہتا ہو کسی طرح کا کام نہ کرے؛ (اَحبار 16:29)
”اُسی ساتویں مہینے کے دسویں دِن کو یَومِ کفّارہ ہے۔ اُس روز تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو۔ تُم روزہ رکھنا اَور یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانی پیش کرنا۔ اُس دِن کویٔی کام نہ کرنا کیونکہ یہ یَومِ کفّارہ ہے، جِس دِن یَاہوِہ تمہارے خُدا کے حُضُور کفّارہ دیا جائے۔ جو کویٔی شخص اُس دِن روزہ نہیں رکھتا ہے، تو اُس شخص کو اُس کو اَپنے لوگوں میں سے خارج کر دیاجایٔے۔ اَورجو کویٔی اُس دِن کویٔی کام کرےگا اُسے، میں اُس کے لوگوں میں سے فنا کر دُوں گا۔ لہٰذا تُم اُس دِن کویٔی کام مت کرنا۔ یہ تمہاری ساری پُشتوں کے لیٔے ایک دائمی فرمان ہے جہاں بھی تُم رہوگے۔ (اَحبار 23:27-31)

عیدِ فطیر

پہلے دِن مُقدّس اِجتماع ہوگا اَور اِس دِن تُم عام دِنوں کی طرح کویٔی کام بالکُل نہ کرنا۔ اَور ساتویں دِن تک تُم یَاہوِہ کو آتِشی قُربانیاں پیش کرنا۔ اَور پھر ساتویں دِن پھر تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور حسبِ معمول کویٔی کام نہ کرنا۔‘ “ (اَحبار 23:7-8)

عیدِ خیام

”بنی اِسرائیل کو یہ حُکم دو، ’ساتویں مہینے کے پندرھویں دِن سے لے کر اگلے سات دِن تک یَاہوِہ کے خیموں کی عید شروع ہوتی ہے۔ پہلا دِن مُقدّس اِجتماع کا دِن ہے۔ تُم اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا۔ اَور سات دِن تک یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانیاں پیش کرنا اَور آٹھویں دِن مُقدّس اِجتماع کرنا اَور یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانی پیش کرنا۔ وہ اِس عید کا آخِری اِجتماع ہوگا۔ لہٰذا اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا۔ (اَحبار 23:34-36)
” ’ساتویں مہینے کے پندرھویں دِن پھر تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو۔ اُس دِن تُم کویٔی حسبِ معمول کام نہ کرنا اَور سات دِن تک یَاہوِہ کے لیٔے کی عید منانا۔ ” ’آٹھویں دِن تمہارا اِجتماع ہو اَور کویٔی حسبِ معمول کام نہ کیا جائے۔ (گِنتی 29:12, 35)

مختلف مذہبی عیدیں

اُسی دِن تُم مُقدّس اِجتماع کا اعلان کرنا اَور اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا۔ یہ تمہاری ساری پُشتوں میں تمہارے لیٔے ایک دائمی فرمان ہے۔ (اَحبار 23:21)
”بنی اِسرائیل کو حُکم دو، ’ساتویں مہینے کی پہلی تاریخ کو تمہارا یَومِ آرام ہوگا۔ اِس مُقدّس موقع پر اِجتماع کیا جائے اَور یادگاری کے لیٔے زور زور سے نرسنگے پھُونکے جایٔیں۔ اُس دِن روزمرّہ کا کویٔی کام نہ کرنا، بَلکہ یَاہوِہ کے حُضُور آتِشی قُربانی پیش کرنا۔‘ “ (اَحبار 23:24-25)
” ’پہلے پھلوں کے دِن جَب تُم ہفتوں کی عید کے موقع پر یَاہوِہ کے لیٔے نئی نذر کی قُربانی پیش کرو تَب بھی تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور اُس روز بھی کویٔی حسبِ معمول کام اَنجام نہ دیا جائے۔ (گِنتی 28:26)
” ’ساتویں مہینے کے پہلے دِن تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو اَور اُس دِن کویٔی حسبِ معمول کام نہ کیا جائے۔ یہ تمہارے لیٔے نرسنگے پھُونکنے کا دِن ہے۔ (گِنتی 29:1)
” ’اِسی ساتویں مہینے کے دسویں دِن تمہارا مُقدّس اِجتماع ہو۔ اُس دِن تُم اَپنی خُودی کا اِنکار کرنا اَور کویٔی کام نہ کرنا۔ (گِنتی 29:7)

کام میں خدا کا حصہ

خدا کام کی مہارتیں دیتا ہے

اَور تُم اُن تمام ماہر کاریگروں کو جنہیں مَیں نے اَیسے کاموں کے لیٔے عقل بخشی ہے کہنا کہ وہ اَہرونؔ کے لیٔے لباس بنائیں تاکہ وہ میری بطور کاہِنؔ خدمت کے لیٔے مخصُوص ہو۔ (خُروج 28:3)
پھر یَاہوِہ نے مَوشہ سے فرمایا، ”دیکھو، مَیں نے یہُوداہؔ کے قبیلہ میں سے بصل ایل بِن اوری بِن حُورؔ کو چُناہے، مَیں نے اُسے خُدا کی رُوح سے معموُر کیا ہے، اُسے فہم اَور حِکمت، اَور ہر قِسم کی دستکاری کا علم بخشا ہے، (خُروج 31:1-3)
علاوہ اَزیں مَیں نے دانؔ کے قبیلہ میں سے اُہلیابؔ بِن احیسمکؔ کو اُس کا مددگار مُقرّر کیا ہے۔ (خُروج 31:6)
اَور پھر مَوشہ نے بنی اِسرائیل سے فرمایا، ”دیکھو، یَاہوِہ نے بصل ایل بِن اوری بِن حُورؔ کو چُنا جو بنی یہُوداہؔ کے قبیلہ میں سے ہے۔ اَور اُس نے اُسے خُدا کی رُوح سے معموُر کیا ہے اَور اُسے فہم اَور حِکمت اَور ہر قِسم کی دستکاری کا علم بخشا ہے تاکہ وہ سونے چاندی اَور کانسے سے خُوبصورت نقش و نگار والی چیزیں بنائے اَور جواہرات کو تراشے اَور جڑے اَور لکڑی کو تراشے اَور ایک ماہر کاریگر ثابت ہو۔ اَور یَاہوِہ نے اُسے اَور دانؔ کے قبیلہ سے اُہلیابؔ بِن احیسمکؔ دونوں کو دُوسروں کو ہُنر سِکھانے کی قابلیّت بخشی ہے۔ اَور یَاہوِہ نے اُنہیں بطور دستکار، صنعت کار اَور نیلے، اَرغوانی اَور سُرخ رنگ کے کپڑے اَور مہین کتان پر کشیدہ کاری کرنے اَور جولاہے کا کام کرنے کی مہارت بخشی ہے تاکہ وہ ماہر دستکار اَور صنعت کار بنیں۔ (خُروج 35:30-35)
لہٰذا بصل ایل، اُہلیابؔ اَور ہر کاریگر جسے یَاہوِہ نے ہُنرمندی، اَور قابلیّت اَور پاک مَقدِس کو بنانے کے کُل کام کو سَر اَنجام دینے کا علم بخشا ہے تاکہ وہ یَاہوِہ کے حُکم کے مُطابق سارا کام اَنجام دیں۔“ تَب مَوشہ نے بصل ایل، اَور اُہلیابؔ اَور ہر کاریگر کو جسے یَاہوِہ نے قابلیّت بخشی تھی اَورجو آکر کام کرنے کے لیٔے رضامند تھا طلب کیا۔ (خُروج 36:1-2)
میری دعا ہے کہ یَاہوِہ تُمہیں شعور و فہم عطا کریں جَب وہ تُمہیں بنی اِسرائیل پر حُکمرانی بخشیں تاکہ تُم یَاہوِہ اَپنے خُدا کے آئین کے پابند رہو۔ (1 تواریخ 22:12)
تَب خُدا نے شُلومونؔ سے فرمایا، ”چونکہ یہ تمہاری دِلی تمنّا ہے اَور تُم نے نہ تو دولت، نہ مال، نہ عزّت، نہ اَپنے دُشمنوں کی موت مانگی اَور نہ عمر کی درازی طلب کی بَلکہ میری قوموں پر جِن پر مَیں نے تُمہیں بادشاہ بنایا ہے حُکمرانی کرنے کے لیٔے حِکمت و علم مانگا ہے، اِس لیٔے حِکمت و علم تُمہیں عطا کی جائے گی اَور مَیں تُمہیں مال و دولت اَور عزّت بھی بخشوں گا، اِس قدر کہ نہ تُم سے پہلے کسی بادشاہ کو کبھی نصیب ہُوئی اَور نہ تمہارے بعد کسی کو نصیب ہوگی۔“ (2 تواریخ 1:11-12)
اَور رُوئے زمین کے سَب بادشاہ شُلومونؔ کی خدمت میں شرف باریابی چاہتے تھے تاکہ وہ اُن حِکمت کی باتوں کو سُنیں جو خُدا نے اُن کے دِل میں ڈالی تھیں۔ (2 تواریخ 9:23)
جو اِنسان خُدا کو پسند آتا ہے اُسے وہ دانائی، علم اَور خُوشی عطا کرتا ہے لیکن گُنہگار کو وہ دولت جمع کرنے اَور اُس کے انبار لگانے کی ذمّہ داری دیتاہے تاکہ بعد میں یہ دولت خُدا کو پسند آنے والے شخص کے حوالہ کی جائے۔ یہ بھی باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ (واعظ 2:26)
خُدا نے اُن چار نوجوانوں کو ہر قِسم کی تعلیم و اَدب اَور فہم بخشا اَور دانی ایل ہر قِسم کی رُویا اَور خواب میں صاحبِ علم تھا۔ (دانی ایل 1:17)
وقتوں اَور موسموں کو وُہی بدلتا ہے؛ وُہی بادشاہوں کو قائِم کرتا ہے اَور اُنہیں معزول بھی کرتا ہے۔ وہ حکیموں کو حِکمت اَور صاحبِ بصیرت کو عِرفان بخشتا ہے۔ اَے میرے آباؤاَجداد کے خُدا، میں تمہارا شُکر اَور تیری تمجید کرتا ہُوں؛ آپ نے مُجھے حِکمت اَور قُدرت بخشی، اَور ہم نے آپ سے جو طلب کیا اُسے آپ نے مُجھ پر ظاہر کیا، آپ نے ہم پر بادشاہ کا خواب ظاہر کیا۔“ (دانی ایل 2:21, 23)

خدا کامیابی دیتا ہے

یَاہوِہ یُوسیفؔ کے ساتھ تھے اَور وہ برومند ہُوئے اَور اَپنے مِصری آقا کے گھر میں رہنے لگے۔ جَب یُوسیفؔ کے آقا نے دیکھا کہ یَاہوِہ یُوسیفؔ کے ساتھ ہے اَورجو کچھ وہ کرتے ہیں یَاہوِہ اُس میں اُن کو کامیابی عطا کرتے ہیں، (پیدائش 39:2-3)
یَاہوِہ تُجھے تیرے نیک اعمال کا صِلہ دے اَور اِسرائیل کا خُدا جِس کے سایہ میں تُم پناہ لینے آئی ہے تُجھے اَپنی بخششوں سے مالا مال کر دے۔“ (رُوتؔ 2:12)
”اَب اَے میرے بیٹے، یَاہوِہ تمہارے ساتھ رہیں اَور تُم اِقبالمند ہو اَور یَاہوِہ اَپنے خُدا کا گھر بناؤ جَیسا کہ یَاہوِہ نے تمہارے حق میں فرمایاہے۔ (1 تواریخ 22:11)
مَیں نے اُنہیں اَپنے اُوپر خُدا کے مہربان ہاتھ کے متعلّق بھی بتایا اَور یہ بھی بتایا کہ بادشاہ نے مُجھ سے کیا کیا باتیں کہی تھیں۔ اُنہُوں نے کہا، ”آؤ ہم اُٹھیں۔“ اَور دوبارہ تعمیر شروع کریں۔ چنانچہ اُنہُوں نے یہ نیک کام شروع کیا۔ مَیں نے اُنہیں جَواب میں کہا، ”آسمان کا خُدا ہمیں کامیابی بخشےگا۔ ہم جو اُن کے خادِم ہیں دوبارہ تعمیر شروع کریں گے۔ لیکن جہاں تک تمہارا تعلّق ہے، اِس کام میں تمہارا کویٔی حِصّہ نہیں، نہ ہی تمہارا کویٔی حق ہے نہ ہی یروشلیمؔ میں تمہاری کویٔی یادگار ہے۔“ (نحمیاہ 2:18, 20)
جَب ہمارے دُشمنوں کو بھی مَعلُوم ہو گیا کہ ہمیں اُن کی سازش کا پتا چل گیا ہے اَور خُدا نے اُن کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے، تو ہم سَب اَپنے اَپنے کام پر فصیل کی طرف لَوٹ آئے۔ پھر مَیں نے اُمرا، حُکاّم اَور باقی لوگوں سے کہا، ”کام بہت بڑا ہے اَور دُور تک پھیلا ہُواہے اَور ہم فصیل پر الگ الگ ایک دُوسرے سے دُور رہتے ہیں۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی تُم نرسنگے کی آواز سُنو وہاں سے آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ اَور ہمارے خُدا ہماری طرف سے لڑیں گے۔“ (نحمیاہ 4:15, 19-20)
چنانچہ فصیل باون دِن میں الُولؔ مہینے کی پچّیسویں تاریخ کو مُکمّل ہو گئی۔ جَب ہمارے سَب دُشمنوں نے سُنا تو اِردگرد کی تمام قومیں ڈر گئیں اَور اُن کی خُود اِعتمادی جاتی رہی کیونکہ اُنہُوں نے جان لیا کہ یہ کام ہم نے اَپنے خُدا کی مدد سے کیا ہے۔ (نحمیاہ 6:15-16)
حضرت یُوحنّا نے جَواب دیا، ”اِنسان کُچھ نہیں حاصل کر سَکتا جَب تک کہ اُسے آسمانی خُدا کی طرف سے نہ دیا جائے۔ (یُوحنّا 3:27)

آخرکار ترقی خدا کے اختیار میں ہے

اَور دولت اَور عزّت آپ کی طرف سے آتی ہیں؛ اَور آپ ہی سَب چیزوں پر حُکمران ہیں۔ اِختیار اَور قُدرت آپ ہی کے ہاتھ میں ہیں، اَور سَب کو توانائی اَور سرفرازی آپ ہی بخشتے ہیں۔ (1 تواریخ 29:12)
یَاہوِہ آپ کے خُدا کی سِتائش ہو جو آپ سے اَیسا راضی ہُوئے کہ آپ کو اَپنے تخت پر تخت نشین کیا تاکہ آپ یَاہوِہ اَپنے خُدا کی طرف سے بادشاہ ہوں۔ چونکہ آپ کے خُدا کو بنی اِسرائیل سے مَحَبّت تھی کہ اُنہیں ہمیشہ کے لیٔے قائِم کریں، اِس لیٔے اُنہُوں نے آپ کو اُن کا بادشاہ بنایا تاک آپ عدل اَور راستی کو بحال رکھیں۔“ (2 تواریخ 9:8)
اِنسان کو نہ تو کویٔی مشرق سے اَور نہ مغرب سے اَور نہ ہی بیابان سے سرفراز کر سَکتا ہے۔ بَلکہ خُدا ہی اِنصاف کرتا ہے؛ وہ کسی کو پست کرتا ہے اَور کسی کو سرفراز۔ (زبُور 75:6-7)
آپ اَے بادشاہ، آپ شَہنشاہوں کا شَہنشاہ ہیں۔ آسمانی خُدا نے آپ کو بادشاہت اَور قُدرت اَور طاقت اَور جلال بخشا ہے۔ اُس نے بنی آدمؔ اَور میدان کے درندے اَور ہَوا کے پرندے آپ کے ہاتھ میں کر دئیے ہیں۔ وہ جہاں کہیں بستے ہیں، آپ کو اُس نے اُن کا حُکمران بنا دیا ہے۔ اُس مُورت کی سُنہری سَر آپ ہی ہیں۔ (دانی ایل 2:37-38)
اَور اُسے لوگوں کے درمیان سے نکال دیا گیا اَور اُسے حَیوان کا دِل دیا گیا۔ وہ گورخروں کی صحبت میں رہا اَور بَیلوں کی مانند گھاس کھاتا رہا اَور اُس کا جِسم آسمان کی شبنم سے بھیگتا رہا جَب تک کہ اُس نے اقرار کر لیا کہ خُداتعالیٰ اِنسان کی مملکتوں پر حُکمرانی کرتا ہے اَور وہ جسے چاہتاہے اُسے اُس پر قائِم کرتا ہے۔ (دانی ایل 5:21)

خدا لوگوں کو کام پر آمادہ کر سکتا ہے

تَب یَاہوِہ نے شیالتی ایل کے بیٹے زرُبّابِیل یہُوداہؔ کے حاکم اَور یہُوصدقؔ کے بیٹے یہوشُعؔ اعلیٰ کاہِن اَور باقی لوگوں کی رُوح کو اُبھارا اَور اُنہُوں نے آکر اَپنے قادرمُطلق یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں کام کرنا شروع کر دیا۔ (حگّیؔ 1:14)

آجر اور ملازم کی ذمہ داریاں

آجر کی ذمہ داریاں

منصفانہ اجرت دیں

”افسوس اُس پرجو اَپنا محل ناجائز طریقوں سے، اَور اَپنے بالاخانہ کو بےاِنصافی سے تعمیر کرتا ہے، جو اَپنے ہم وطنوں سے بِنا اُجرت کام کرواتا ہے، اَور اُنہیں مزدُوری نہیں دیتا۔ (یرمیاہؔ 22:13)
تَب مَیں تمہاری عدالت کے لیٔے تمہارے نزدیک آؤں گا اَور اوجھاؤں، بدکاروں اَور جھُوٹی قَسم کھانے والوں کے خِلاف اَور اُن کے خِلاف بھی جو مزدُوروں کو اُن کی مزدُوری نہیں دیتے اَور بیواؤں اَور یتیموں پر ظُلم کرتے ہیں اَور پردیسیوں کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہیں اَور مُجھ سے نہیں ڈرتے ہیں، مَیں اُن سَب کے خِلاف فوراً گواہی دُوں گا، یہ قادرمُطلق یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ (ملاکیؔ 3:5)

منصفانہ اجرت پر بات چیت کی مثال

کہ لابنؔ نے یعقوب سے کہا، ”میرا رشتہ دار ہونے کے باعث یہ ضروُری نہیں کہ تُم بِلا مُعاوضہ میری خدمت کرو! لہٰذا مُجھے بتاؤ کہ تمہاری اُجرت کیا ہوگی؟“ (پیدائش 29:15)
لابنؔ نے مزید کہا، ”بتاؤ میری خدمت کے بدلے تمہاری اُجرت کیا ہوگی؟ مَیں تمہاری اُجرت بھی اَدا کرتا رہُوں گا۔“ (پیدائش 30:28)

منصفانہ اجرت نہ دینے والوں کی سزا

اَے دولتمندوں اَب میری بات سُنو! تُم اَپنے اُوپر آنے والی مُصیبتوں پر خُوب روؤ اَور ماتم کرو۔ (یعقوب 5:1)
تمہارے سونے اَور چاندی کو زنگ لگ گیا۔ اَور وہ زنگ تمہارے خِلاف گواہی دے گا اَور آگ کی طرح تمہارا گوشت کھایٔےگا۔ دُنیا کا تو خاتِمہ ہونے والا ہے اَور تُم نے دولت کے انبار لگا لیٔے ہیں۔ دیکھو! جِن مزدُوروں نے تمہارے کھیتوں میں کام کیا تھا اُن کی وہ مزدُوری جو تُم نے دغا کرکے روک لی ہے وہ تمہارے خِلاف چِلّا رہی ہے اَور فصل کاٹنے والوں کی فریاد لشکروں کے ربّ کے کانوں تک پہُنچ چُکی ہے۔ (یعقوب 5:3-4)

منصفانہ اجرت دینے کی مثال والی تمثیل

”کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُس زمین دار کی مانِند ہے جو صُبح سویرے باہر نِکلا تاکہ اَپنے انگوری باغ میں مزدُوروں کو کام پر لگائے۔“ اُس نے ایک دینار روزانہ کی مزدُوری طے کرکے اُنہیں اَپنے انگوری باغ میں بھیج دیا۔ ”پھر تقریباً تین گھنٹے بعد باہر نکل کر اُس نے اَوروں کو بازار میں بیکار کھڑے دیکھا۔ اَور اُس نے اُن سے فرمایا، ’تُم بھی میرے انگوری باغ میں چلے جاؤ اَورجو مُناسب اُجرت ہے، میں تُمہیں دُوں گا۔‘ “ پس وہ چلے گیٔے۔ ”پھر اُس نے دوپہر اَور تیسرے پہر کے قریب باہر نکل کر اَیسا ہی کیا۔ دِن ڈھلنے سے ایک گھنٹہ پہلے وہ پھر باہر نِکلا اَور چند اَور کو کھڑے پایا۔ اُس نے اُن سے پُوچھا، ’تُم کیوں صُبح سے اَب تک بیکار کھڑے ہو؟‘ ” ’ہمیں کسی نے کام پر نہیں لگایا،‘ اُنہُوں نے جَواب دیا۔ ”اُس نے اُن سے فرمایا، ’تُم بھی میرے انگوری باغ میں چلے جاؤ اَور کام کرو۔‘ ”جَب شام ہُوئی تو انگوری باغ کے مالک نے اَپنے مُنیم سے کہا، ’مزدُوروں کو بُلاؤ اَور پچھلوں سے لے کر پہلوں تک کی اُن کی مزدُوری دے دو۔‘ ”جو ایک گھنٹہ دِن ڈھلنے سے پہلے لگائے گیٔے تھے وہ آئے اَور اُنہیں ایک ایک دینار مِلا۔ جَب شروع کے مزدُوروں کی باری آئی تو اُنہُوں نے سوچا کہ ہمیں زِیادہ مزدُوری ملے گی۔ لیکن اُنہیں بھی ایک ایک دینار ہی مِلا۔ جسے لے کر وہ زمین دار پر بُڑبُڑانے لگے کہ ’اِن پچھلوں نے صِرف ایک گھنٹہ کام کیا ہے، اَور ہم نے دھوپ میں دِن بھر محنت کی ہے لیکن آپ نے اُنہیں ہمارے برابر کر دیا۔‘ ”لیکن مالک نے اُن میں سے ایک سے کہا، ’دوست! مَیں نے تیرے ساتھ کویٔی نااِنصافی نہیں کی ہے۔ کیا تیرے ساتھ مزدُوری کا ایک دینار طے نہیں ہُوا تھا؟ لہٰذا جو تیرا ہے لے اَور چلتا بَن! یہ میری مرضی ہے کہ جِتنا تُجھے دے رہا ہُوں اُتنا ہی اِن پچھلوں کو بھی دُوں۔ کیا مُجھے یہ حق نہیں کہ اَپنے مال سے جو چاہُوں سو کروں؟ یا کیا تُمہیں میری سخاوت تمہاری نظروں میں بُری لگ رہی ہے؟‘ ”پَس بہت سے جو آخِر ہیں وہ اوّل ہو جایٔیں گے اَورجو اوّل ہیں وہ آخِر۔“ (متّی 20:1-16)

ملازم کو بروقت اجرت دیں

” ’تُم اَپنے پڑوسی کو مت ٹھگنا اَور نہ ہی اُسے لُوٹنا۔ ” ’اَور نہ کسی مزدُور کی مزدُوری اَپنے پاس رات سے صُبح تک روکے رکھنا۔ (اَحبار 19:13)
تُم مزدُور کی مفلسی اَور مُحتاجی کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھانا خواہ وہ اِسرائیلی بھایٔی ہو یا کویٔی پردیسی ہو جو تمہارے کسی شہر میں رہتا ہو۔ تُم ہر روز آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے ہی اُس کی مزدُوری دے دیا کرو کیونکہ وہ غریب ہے اَور اُس پر اُس کی آس لگی ہُوئی ہوتی ہے۔ کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ یَاہوِہ سے تمہارے خِلاف فریاد کرے اَور تُم مُجرم ٹھہرو۔ (اِستِثنا 24:14-15)

عادل اور منصف بنیں

اَے مالِکو! اَپنے غُلاموں کے ساتھ جائز اَور منصفانہ سلُوک کریں، کیونکہ تُم جانتے ہو کہ آسمان پر تمہارا بھی ایک مالک ہے۔ (کلُسّیِوں 4:1)

دھمکائیں نہیں بلکہ ملازم کی خدمت کریں

اَور خدمت کو آدمیوں کا نہیں، بَلکہ خُداوؔند کا کام سمجھ کر، اُسے جی جان سے کرو۔ کیونکہ تُم جانتے ہو کہ جو کویٔی اَچھّا کام کرےگا، خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد، خُداوؔند سے اُس کا اجر پایٔےگا۔ مالِکو! تُم بھی اَپنے خادِموں سے اِسی قِسم کا سلُوک کرو۔ اُنہیں دھمکیاں دینا چھوڑ دو کیونکہ تُم جانتے ہو کہ اُن کا اَور تمہارا دونوں کا مالک آسمان پر ہے، اَور اُس کے یہاں کسی کی طرفداری نہیں ہوتی۔ (اِفِسیوں 6:7-9)

ملازمین کی شکایات سنیں

”اگر مَیں نے اَپنے خادِم یا خادِمہ سے نااِنصافی کی ہو جَب اُنہیں مُجھ سے کویٔی شکایت تھی، تو خُدا کے سامنے میں کیا کروں گا؟ جَب بازپُرس ہوگی تو میں کیا جَواب دُوں گا؟ کیا اُن ہی خُدا نے اُنہیں نہیں بنایا جنہوں نے مُجھے رحم میں بنایا؟ کیا اُن ہی نے ہمیں اَپنی اَپنی ماؤں کے اَندر تشکیل نہیں کیا؟ (ایُّوب 31:13-15)

ملازم کو مناسب آرام دیں ورنہ نتائج بھگتیں

وہ کہتے ہیں، ’ہم نے روزے کس لیٔے رکھے، جَب کہ تُونے اُنہیں دیکھا تک نہیں؟ ہم فروتن ہُوئے، اَور تُونے دھیان نہیں دیا۔‘ ”پھر بھی اَپنے روزے کے دِن تُم اَپنی ہی مرضی پُوری کرتے ہو اَور اَپنے تمام کارندوں سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہو۔ (یَشعیاہ 58:3)

اگر آجر بددیانت ہو تو ملازم بھی بددیانت ہو جاتے ہیں

اگر کویٔی حاکم جھُوٹ پر کان لگاتاہے، تو اُس کے تمام اہلکار بدکارہو جاتے ہیں۔ (امثال 29:12)

ایماندار ملازمین سے خاص سلوک

”اگر تُم عِبرانی غُلام خریدو تو وہ چھ سال تک تمہاری خدمت کرے لیکن ساتویں سال وہ قیمت اَدا کئے بغیر آزاد ہوکر چلا جائے۔ (خُروج 21:2)
اگر کویٔی تمہارا عِبرانی بھایٔی خواہ مَرد ہو یا عورت تُمہیں بیچی گئی ہے، اَور وہ چھ سال تک تمہاری خدمت کر چُکے ہُوں، تو تُم ساتویں سال میں اُنہیں آزاد کردینا۔ اَور جَب تُم اُسے آزاد کرو تو اُسے خالی ہاتھ رخصت نہ کرنا۔ بَلکہ اَپنے گلّے، کھلیان اَور مے کے حوض میں سے اُنہیں دِل کھول کر جَیسی برکت تُمہیں یَاہوِہ تمہارے خُدا نے بخشی ہے اُسی کے مُطابق اُنہیں دینا۔ (اِستِثنا 15:12-14)

خدا ترس ملازمین کی وجہ سے آجر کو برکت

لیکن لابنؔ نے یعقوب سے کہا، ”اگر مُجھ پر تمہاری مہربانی ہو تو تُم یہیں رہو کیونکہ مَیں نے غیب سے جاناہے کہ یَاہوِہ نے تمہارے سبب سے مُجھے برکت بخشی ہے۔“ (پیدائش 30:27)
جَب سے اُس نے یُوسیفؔ کو اَپنے گھر کا مختار اَور اَپنے مال و متاع کا نِگراں مُقرّر کیا، تَب سے یَاہوِہ نے یُوسیفؔ کی وجہ سے اُس مِصری کے گھر کو برکت بخشی۔ پُطیفؔار کی ہر شَے پر خواہ وہ گھر کی تھی یا کھیت کی خُدا کی برکت مِلی۔ (پیدائش 39:5)

وفادار آجر

علاوہ اَزیں ارتخشستاؔ بادشاہ کی سلطنت کے بیسویں بَرس سے لے کر جَب مَیں یہُودیؔہ کی سرزمین کا حاکم مُقرّر ہُوا اُس کے بتّیسویں سال تک یعنی بَارہ بَرس کے عرصہ تک نہ مَیں نے اَور نہ ہی میرے بھائیوں نے وہ کھانا جو حاکم کے لیٔے مخصُوص ہوتاہے کھایا۔ (نحمیاہ 5:14)
لیکن میرے پیش رَو حاکم لوگوں پر ایک بھاری بوجھ بنے ہُوئے تھے۔ وہ رعایا سے غِذا اَور مَے کے علاوہ چالیس ثاقل چاندی لیتے تھے اَور اُن کے مُلازمین بھی لوگوں پر حُکومت جتاتے تھے۔ لیکن خُدا کے خوف کی وجہ سے مَیں نے اَیسا نہ کیا (نحمیاہ 5:15)
بَلکہ اُس فصیل کے کام میں برابر مشغُول رہا۔ اَور میرے تمام مُلازمین بھی وہاں جمع ہوکر کام کرتے تھے۔ ہم نے تو زمین تک نہیں خریدی۔ (نحمیاہ 5:16)
علاوہ اَزیں ایک سَو پچاس یہُودی اَور اہلکار نیز وہ بھی جو گِردونواح کی اَقوام سے ہمارے پاس آتے تھے میرے دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔ (نحمیاہ 5:17)
میرے لیٔے ہر روز ایک بَیل، چھ موٹی تازی بھیڑیں اَور مُرغ وغیرہ تیّار کئے جاتے تھے۔ اَور ہر دسویں روز ہر قِسم کی مَے کثرت سے مُہیّا کی جاتی تھی۔ اِن سَب کے باوُجُود مَیں نے حاکم کے لیٔے مخصُوص خُوراک کبھی طلب نہ کی کیونکہ لوگ پہلے ہی غُلامی کے بوجھ تلے دبے ہُوئے تھے۔ (نحمیاہ 5:18)

بے وفا آجر

مِصری غُلام اِسرائیلیوں سے اَور بھی زِیادہ سختی سے کام لینے لگے۔ اَور اُنہُوں نے اُن سے اینٹیں اَور گارا بنوا بنوا کر اَور کھیتوں میں ہر قِسم کی خدمت لے کر اُن کی زندگیاں تلخ کر دیں، اَور اُن کی ساری محنت اَور مشقّت میں مِصری اُن پر تشدّد کرتے تھے۔ (خُروج 1:13-14)

ملازم رکھنے میں احتیاط برتیں

جو کسی احمق یا راہگزارو کو مزدُوری پر لگاتاہے وہ اُس تیرانداز کی مانند ہے جو سَب کو زخمی کرتا ہے۔ (امثال 26:10)

ملازمین کی ذمہ داریاں

وفادار رہیں

اِس پر وُزراء اَور ناظِم، دانی ایل کے خِلاف حُکومت کی کارکردگی میں خامیاں ڈھونڈنے لگے لیکن وہ اُس میں کامیاب نہ ہُوئے۔ اُنہُوں نے اُس میں کویٔی بُرائی نہ پائی کیونکہ وہ دیانتدار تھا، اَپنے چال چلن میں لاپروا نہ تھا۔ (دانی ایل 6:4)

خدا ترس آجر کی اور بھی وفاداری سے خدمت کریں

لیکن جِن غُلاموں کے مالک مُومِن ہیں وہ اِس خیال سے کہ اَب وہ اُن کے مُومِنین بھایٔی ہیں، اُنہیں حقیر نہ جانیں بَلکہ اُن کی اَور زِیادہ خدمت کریں کیونکہ اَب اُن کی خدمت سے اُن کے عزیز مُومِنین بھائیوں کو ہی فائدہ پہُنچے گا۔ تُو اُنہیں اِن ہی باتوں کی تعلیم دے اَور نصیحت کر۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:2)

کامیابی ملازم کی وفاداری کا نتیجہ ہو سکتی ہے

دانشمند نوکر رُسوا بیٹے پر حُکم چلائے گا، اَور بھائیوں کے ساتھ مِیراث میں شریک ہوگا۔ (امثال 17:2)
جو اَنجیر کے درخت کی حِفاظت کرتا ہے، وہ اُس کا پھل کھائے گا، اَورجو اَپنے آقا کا خیال رکھتا ہے، عزّت پایٔےگا۔ (امثال 27:18)
اِس طرح داریاویشؔ مادیؔ اَور خورشؔ فارسی دونوں کے دَورِ حُکومت میں دانی ایل کامیابی پاتا گیا۔ (دانی ایل 6:28)

ایسے وفادار ملازمین کی مثال جن سے حساب لینے کی ضرورت نہ تھی

اِس کے علاوہ وہ اُن تعمیراتی نِگرانوں سے جنہیں وہ کاریگروں کو دینے کے لئے رقم سُپرد کرتے تھے، اُن سے کویٔی حِساب نہیں مانگا کرتے تھے کیونکہ وہ پُورے ایماندار اَور قابلِ اِعتبار تھے۔ (2 سلاطین 12:15)
لیکن تعمیر کرانے والوں سے اُس نقدی کا جو اُنہیں سُپرد کی جائے حِساب لینے کی ضروُرت نہیں کیونکہ وہ راستی سے کام کر رہے ہیں۔“ (2 سلاطین 22:7)

نگرانی میں وفادار ملازمین کی مثال

اُن آدمیوں نے بنی مِراریؔ کے بیٹے لیوی یاحاتؔھ اَور عبدیاہؔ اَور قُہاتیوں کے گھرانے سے زکریاؔہ اَور مِشُلّامؔ کی نِگرانی میں وفا شعاری سے کام کیا جو اُن پر بطور نِگران مُقرّر تھے۔ وہ سَب طرح کے کام کی نِگرانی کرتے تھے جِن میں بعض لیوی مُصنِّف، نِگران دربان اَور بعض ساز بجانے میں ماہر تھے۔ (2 تواریخ 34:12)

وفادار ملازم آجر کے لیے برکت ہے

قابلِ اِعتماد قاصِد، اَپنے بھیجنے والوں کے لیٔے گرم موسم کی برف کی ٹھنڈک کی مانند ہوتاہے؛ وہ اَپنے مالکوں کی جان کو تازہ دَم کر دیتاہے۔ (امثال 25:13)

آجر کی فرمانبرداری کریں کیونکہ دراصل آپ خداوند کی خدمت کر رہے ہیں

خادِموں! اَپنے دُنیوی مالکوں کی صدق دِلی سے ڈرتے اَور کانپتے ہویٔے، اَیسی فرمانبرداری کرو جَیسی المسیح کی کرتے ہو۔ آدمیوں کو خُوش کرنے والوں کی طرح محض دِکھاوے کے لیٔے خدمت نہ کرو، بَلکہ اُسے خُوش دِلی سے اَنجام دو گویا تُم المسیح کے خادِم ہو، اَور خُدا کی مرضی بجا لا رہے ہو۔ اَور خدمت کو آدمیوں کا نہیں، بَلکہ خُداوؔند کا کام سمجھ کر، اُسے جی جان سے کرو۔ کیونکہ تُم جانتے ہو کہ جو کویٔی اَچھّا کام کرےگا، خواہ وہ غُلام ہو یا آزاد، خُداوؔند سے اُس کا اجر پایٔےگا۔ (اِفِسیوں 6:5-8)
اَے غُلاموں! سَب باتوں میں اَپنے دُنیوی مالکوں کے فرمانبردار رہو؛ نہ صِرف ظاہری طور پر اُنہیں خُوش کرنے کے لیٔے خدمت کرو، بَلکہ اُسے خُوش دِلی سے اَور خُداوؔند کا خوف مانتے ہویٔے اَنجام دو۔ جو بھی کام کرو اُسے دِل و جان سے کرو، گویا یہ جان کر کہ خُداوؔند کے لیٔے کر رہے ہو، نہ کہ کسی اِنسان کے لیٔے۔ کیونکہ تُم جانتے ہو کہ خُداوؔند تُمہیں اِس کے عوض میں وعدہ کی ہُوئی مِیراث دے گا۔ کیونکہ تُم واقعی المسیح کی خدمت کر رہے ہو۔ (کلُسّیِوں 3:22-24)
غُلاموں کو سِکھا کہ اَپنے مالکوں کے سَب تابع رہیں۔ اُن کے ہر حُکم کی تعمیل کریں اَور کبھی اُلٹ کر جَواب نہ دیں، خیانت نہ کریں بَلکہ پُوری وفاداری سے کام کریں تاکہ اُن کے سارے کام ہمارے مُنجّی خُدا کی تعلیم کی زینت کا باعث ہو سکیں۔ (طِطُس 2:9-10)

چاہے غیر معقول آجر کے لیے کام کر رہے ہوں

اَے غُلاموں! بڑے خوف اَور اِحترام کے ساتھ اَپنے مالکوں کے تابع رہو، نیک اَور حلیم مالکوں کے ہی نہیں بَلکہ بُرے مالکوں کے بھی تابع رہو۔ کیونکہ اگر تُم صبر کے ساتھ بےاِنصافی کے باعث یہ جان کر تکلیفوں کو برداشت کرتے ہو کہ جو تُم کر رہے ہو وہ صحیح ہے تو خُدا کی نظر میں یہ بات قابلِ تعریف ہے۔ (1 پطرس 2:18-19)

اپنے آجر کی عزت کریں

جتنے غُلام ابھی تک غُلامی کے جُوئے میں ہیں وہ اَپنے مالکوں کو بڑی عزّت کے لائق سمجھیں تاکہ کویٔی خُدا کے نام کی اَور ہماری تعلیم کی توہین نہ کرے۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:1)
غُلاموں کو سِکھا کہ اَپنے مالکوں کے سَب تابع رہیں۔ اُن کے ہر حُکم کی تعمیل کریں اَور کبھی اُلٹ کر جَواب نہ دیں، (طِطُس 2:9)

اپنے ساتھی کارکنوں پر تہمت نہ لگائیں

”خادِم پر اُس کے آقا کے سامنے تہمت نہ لگاؤ، اَیسا نہ ہو کہ وہ تُم پر لعنت کرے اَور تُمہیں نتیجہ بھگتنا پڑے؛ (امثال 30:10)

اپنی اجرت پر قناعت کریں

تَب بعض سپاہیوں نے بھی پُوچھا، ”ہم کیا کریں؟“ اَور حضرت یُوحنّا نے اُن سے کہا، ”کسی پر جھُوٹا اِلزام مت لگاؤ اَور نہ ڈرا دھمکا کر کسی سے کُچھ لو۔ اَپنی تنخواہ سے مطمئن رہو۔“ (لُوقا 3:14)

اخلاقی دیانتداری سے کام لیں

اَور کچھ ہی عرصہ کے بعد یُوسیفؔ کے آقا کی بیوی کی نظر یُوسیفؔ پر پڑی اَور اُس نے یُوسیفؔ کو، ”مباشرت کرنے پر مجبُور کیا!“ لیکن یُوسیفؔ نے اِنکار کر دیا اَور اَپنی مالکن سے کہا، ”میں اِس گھر کا مختار ہُوں اَور اِس وجہ سے میرے آقا کو گھر کی فکر کرنے کی کوئی ضروُرت نہیں، اُنہُوں نے اَپنے گھر کا سَب کچھ میرے سُپرد کر رکھا ہے۔ اِس گھر میں مُجھ سے بڑا کویٔی نہیں اَور میرے آقا نے آپ کے سِوا کویٔی شَے میرے اِختیار سے باہر نہیں رکھی کیونکہ آپ اُن کی بیوی ہو۔ پھر بھلا میں اَیسی ذلیل حرکت کیوں کروں اَور خُدا کی نظر میں گُنہگار بنُوں؟“ (پیدائش 39:7-9)

کام اور کاروبار کے عمومی اصول

بےایمانوں کے ساتھ کاروباری شراکت نہ کریں

بےاِعتقادوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جُتو۔ کیونکہ راستبازی اَور بے دینی میں کیا میل جول؟ یا رَوشنی اَور تاریکی میں کیا شراکت؟ المسیح کو بلِیعالؔ سے کیا مُوافقت؟ ایمان والوں کا بےاِعتقادوں سے کیا واسطہ؟ خُدا کے مَقدِس کو بُتوں سے کیا مُناسبت؟ زندہ خُدا کا مَقدِس تو ہم ہیں جَیسا کہ خُدا نے فرمایاہے: ”میں اُن میں بسُوں گا اَور اُن کے درمیان چلا پھرا کروں گا۔ میں اُن کا خُدا ہوں گا اَور وہ میری اُمّت ہوں گے۔“ لہٰذا، ”خُداوؔند خُود فرماتے ہیں۔ اُن میں سے باہر نکل آؤ، علیحدہ ہو جاؤ۔ اَورجو چیز ناپاک ہے اُسے مت چھُوؤ، تَب میں تُمہیں قبُول کروں گا۔“ (2 کُرِنتھِیوں 6:14-17)

گھر بنانے سے پہلے کاروبار قائم کریں

پہلے اَپنا باہر کا کام پُورا کر لو اَور کھیتوں کا کام بھی ختم کر لو، اَور اُس کے بعد اَپنے لیٔے گھر تعمیر کرنا۔ (امثال 24:27)

پیداوار کچھ بےترتیبی بھی پیدا کرتی ہے

جہاں ہل چلانے والے بَیل نہیں ہوتے وہاں چرنی بھی خالی رہتی ہے، لیکن بَیل ہی کے زور سے اناج کی کثرت ہوتی ہے۔ (امثال 14:4)

ہنرمند لوگ عزت پائیں گے

کیا تُم نے کویٔی اَیسا آدمی دیکھاہے جو اَپنے فن میں ماہر ہے؟ وہ بادشاہوں کے حُضُور میں کسی کام پر سرفراز ہوگا؛ نہ کہ ادنیٰ اہلکاروں کے سامنے۔ (امثال 22:29)

کاروبار میں کل کے بارے میں شیخی نہ ماریں

اَور اَب میری بات سُنو! تُم جو یہ کہتے ہو، ”آج یا کل ہم فُلاں فُلاں شہر میں جایٔیں گے، ایک بَرس وہاں ٹھہریں گے اَور کاروبار کرکے رُوپیہ کمائیں گے۔“ جَب کہ سچ تو یہ کہ تُم یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہوگا؟ ذرا سُنو تو؛ تمہاری زندگی ہے ہی کیا؟ وہ صِرف دُھواں کی مانند ہے جو تھوڑی دیر کے لیٔے نظر آتی اَور پھر غائب ہو جاتی ہے۔ اِس کے بجائے تُمہیں یہ کہنا چاہئے، ”اگر ربّ کی مرضی ہُوئی تو ہم زندہ رہیں گے اَور یہ یا وہ کام بھی کریں گے۔“ (یعقوب 4:13-15)

اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کریں

اَور جَیسا ہم پہلے ہی تُمہیں حُکم دے چُکے ہیں، ہر شخص خاموشی سے اَپنے کام میں لگا رہے اَور اَپنے ہاتھوں سے محنت کرے، تاکہ غَیر مسیحی لوگ تمہاری روزمرّہ کی زندگی کو دیکھ کر تُمہیں عزّت دیں اَور تُم کسی چیز کے مُحتاج نہ رہو۔ (1 تھِسّلُنیِکیوں 4:11-12)

بےدین لوگ کبھی کبھی بُرے کاروبار کو بچانے کے لیے خدا ترسوں کو ستاتے ہیں

ایک چاندی کاریگر جِس کا نام دیمیترِیُسؔ تھا، اَرتمِسؔ دیوی کے بُت خانہ کے نمونہ پر چاندی کے چُھوٹے چُھوٹے بُت خانہ بنواتا تھا اَور اَپنے ہم پیشہ کاریگروں کو بہت کام دِلواتا تھا۔ اُس نے اَپنے ہم پیشہ سارے کاریگروں کو جمع کیا اَور کہا، ”بھائیو! تُم جانتے ہو کہ ہم یہ کام کرکے کافی رقم کما لیتے ہیں۔ لیکن جَیسا کہ تُم دیکھتے اَور سُنتے ہو یہ آدمی پَولُسؔ کِس طرح اِفِسُسؔ اَور تقریباً سارے صُوبہ آسیہؔ میں ہمیں بہت سے لوگوں کو قائل کرکے گُمراہ کر رہاہے اَور کہتاہے کہ ہاتھوں کے بنائے ہویٔے بُت ہرگز معبُود نہیں ہو سکتے۔ خوف اِس بات کا ہے کہ نہ صِرف ہمارے پیشہ کی بدنامی ہوگی بَلکہ عظیم دیوی اَرتمِسؔ کے بُت خانہ کی قدر بھی جاتی رہے گی۔ اَور جَیسے تمام آسیہؔ اَور ساری دُنیا بھر میں اِس دیوی کی پرستش ہوتی ہے۔ اَب اُس کے نام کی عظمت بھی باقی نہ رہے گی۔“ جَب اُنہُوں نے یہ سُنا تو غُصّہ سے آگ بگُولہ ہو گئے اَور زور زور سے نعرے لگانے لگے، ”اِفِسیوں کی دیوی اَرتمِسؔ عظیم ہے!“ (اعمال 19:24-28)

خداوند کام کے ذریعے ہمیں فروتن بنا سکتا ہے

کیونکہ اُنہُوں نے خُدا کے کلام سے بغاوت کی اَور خُداتعالیٰ کی مشورت کو حقیر جانا۔ چنانچہ خُدا نے اُنہیں سخت مشقّت میں ڈالا؛ وہ ٹھوکریں کھاتے پھرے لیکن کویٔی نہ تھا جو اُن کی مدد کرتا۔ (زبُور 107:11-12)

اشیا اور خدمات کا منصفانہ معاوضہ لازم ہے

”اِس لیٔے اَب تُم اَپنے خادِموں کو حُکم دو کہ وہ میرے لیٔے لبانونؔ سے دیودار کے درخت کاٹیں۔ میرے آدمی تمہارے آدمیوں کے ساتھ مِل کر کام کریں گے اَور جِتنی بھی اُجرت تُم مُقرّر کروگے مَیں تمہارے آدمیوں کو اَدا کروں گا۔ اَور تُم جانتے ہی ہو کہ ہم لوگوں میں کویٔی بھی اَیسا نہیں جو لکڑی کاٹنے میں صیدونیوں کی طرح ماہر ہو۔“ (1 سلاطین 5:6)
اَور میرے لئے بہت سِی لکڑی مُہیّا کریں گے کیونکہ وہ بیت المُقدّس جو میں تعمیر کرنے کو ہُوں وہ عظیم اَور عالیشان ہوگا۔ اَور مَیں تمہارے خادِموں یعنی لکڑی کاٹنے والوں کو بیس ہزار کور گیہُوں اَور بیس ہزار کور جَو، بیس ہزار بَت انگور کا شِیرہ اَور بیس ہزار بَت زَیتُون کا تیل دُوں گا۔“ (2 تواریخ 2:9-10)

غیر منصفانہ معاوضے کی مثال

شُلومونؔ کو یَاہوِہ کا بیت المُقدّس اَور شاہی محل اِن دو عمارتوں کی تعمیر کرنے میں بیس سال کا وقت لگا، چونکہ شاہِ صُورؔ حِیرامؔ نے شُلومونؔ کے لیٔے دیودار اَور صنوبر کی لکڑی اَور سونا شُلومونؔ کی فرمایٔش کے مُطابق مُہیّا کیا تھا، بادشاہ شُلومونؔ نے صُورؔ حِیرامؔ کو گلِیل علاقہ میں بیس شہر دے دئیے۔ لیکن جَب حِیرامؔ صُورؔ سے اُن شہروں کو دیکھنے آیا، جو شُلومونؔ نے اُسے دئیے تھے، تو وہ اُسے پسند نہ آئے۔ (1 سلاطین 9:10-12)

ریٹائرمنٹ

”لیویوں پر لازِم ہوگا: پچّیس سال یا اُس سے زِیادہ عمر کے مَرد خیمہ اِجتماع میں خدمت کرنے آیا کریں۔ لیکن پچاس سال کی عمر ہونے پر وہ اَپنی روزمرّہ کی خدمت سے مستعفی ہُوں اَور پھر کام نہ کریں۔ وہ اگر چاہیں تو خیمہ اِجتماع کی خدمت میں اَپنے بھائیوں کا ہاتھ بٹائیں لیکن بذاتِ خُود کویٔی کام نہ کریں۔ تُم لیویوں کو اِسی قِسم کی ذمّہ داریاں سونپنا۔“ (گِنتی 8:24-26)

نیکوکار بیوی محنت کرتی ہے اور اپنے گھرانے کے لیے برکت ہے

نیک چلن بیوی کون پا سَکتا ہے؟ کیونکہ وہ لعلوں سے بھی زِیادہ قیمتی ہے۔ اُس کے خَاوند کو اُس پر پُورا اِعتماد ہوتاہے اَور کویٔی کمی محسُوس نہیں ہوتی۔ وہ اَپنی زندگی کے تمام ایّام میں، اُس سے بھلائی ہی کرتی ہے، اُسے ضرر نہیں پہُنچاتی۔ وہ اُون اَور کتان جمع کرتی ہے اَور نہایت شوق سے اَپنے ہاتھوں سے کام کرتی ہے۔ وہ سوداگروں کے جہازوں کی مانند، اَپنی خُوراک دُور سے لے آتی ہے۔ ابھی اَندھیرا ہی ہوتاہے کہ وہ اُٹھ جاتی ہے؛ اَور اَپنے خاندان کو کھانا کھِلاتی ہے اَور اَپنی خادِماؤں کو اُن کے حِصّہ کا کام بانٹتی ہے۔ وہ کسی کھیت کے بارے میں سوچتی ہے تو اُسے خرید لیتی ہے؛ اَور اَپنی آمدنی سے تاکستان لگاتی ہے۔ وہ کمر باندھ کر اَپنے کام کاج میں لگ جاتی ہے؛ اُس کے بازو اُس کے کاموں کے لیٔے مضبُوط ہوتے ہیں۔ وہ خیال رکھتی ہے کہ اُس کی تِجارت سُود مند ہو، اُس کا چراغ رات کو نہیں بُجھتا۔ وہ تکلے پر اَپنے ہاتھ سے سُوت تیّار کرتی ہے اَور کپڑا بھی خُود ہی بُنتی ہے۔ وہ مسکینوں کے لیٔے ہتھیلی کھولتی ہے اَور مُحتاجوں کے لیٔے اَپنے ہاتھ بڑھاتی ہے۔ جَب برف باری ہوتی ہے تَب اُسے اَپنے گھر بار کے لیٔے خوف نہیں ہوتا؛ کیونکہ وہ سَب بالوں کے سُرخ لباس پہنے ہُوئے ہوتے ہیں۔ وہ اَپنے بِستر کے لیٔے پلنگ پوش بنا لیتی ہے؛ اُس کا لباس نفیس کتان اَور اَرغوانی رنگ کا ہوتاہے۔ شہر کے پھاٹک پر اُس کے خَاوند کا اِحترام کیا جاتا ہے، جہاں وہ مُلک کے بُزرگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ وہ مہین کتانی کپڑے بنا کر اُنہیں فروخت کرتی ہے، اَور سوداگروں کو کمر کے پٹکے مہیا کرتی ہے۔ وہ قُوّت اَور حُرمت سے مُلبّس رہتی ہے؛ اَور آنے والے دِنوں پر ہنستی ہے۔ وہ اَپنا مُنہ حِکمت سے کھولتی ہے، اَور شفقت کی تعلیم اُس کی زبان پر ہوتی ہے۔ وہ اَپنے گھر کے حالات پر نظر رکھتی ہے اَور کاہلی کی روٹی نہیں کھاتی۔ اُس کے بچّے اُٹھ کر اُسے مُبارک کہتے ہیں؛ اَور اُس کا خَاوند بھی، اَور وہ اُس کی یُوں تعریف کرتا ہے: (امثال 31:10-28)
تبھی وہ جَوان خواتین کو سِکھا سکیں گی کہ وہ اَپنے شوہروں اَور بچّوں کو پیار کریں، اَپنے نَفس پر قابُو رکھیں اَور پاک دامن ہوں، گھر کا کام کاج کرنے والی اَور مہربان ہوں اَور اَپنے شوہروں کے تابع رہیں تاکہ خُدا کے کلام کی بدنامی نہ ہو۔ (طِطُس 2:4-5)

باطل چیزوں کے پیچھے بھاگنا غربت لاتا ہے

جو اَپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے، وہ کثرت سے خُوراک پایٔےگا، لیکن جو خیالی پُلاؤ پکاتا رہتاہے مُحتاج رہے گا۔ (امثال 12:11)
جو اَپنی زمین میں کاشتکاری کرتا ہے، کثرت سے خُوراک پایٔےگا، لیکن جو خیالی پُلاؤ پکاتا رہتاہے، مفلسی سے دوچار ہوگا۔ (امثال 28:19)