بت پرست نہ بننے کا حکم
تُم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اَور اَپنے لیٔے چاندی یا سونے کے معبُود نہ گڑھ لینا۔ (خُروج 20:23)
بت انسانی ہاتھوں کی کاریگری ہیں
لیکن اُن کے بُت تو چاندی اَور سونا ہیں، جو آدمی کی دستکاری ہیں۔ (زبُور 115:4)
قوموں کے بُت تو چاندی اَور سونا ہیں، جو آدمی کی دستکاری ہیں۔ (زبُور 135:15)
خدا سب کچھ مہیا کرتا ہے، یہاں تک کہ بتوں کے لیے استعمال ہونے والا مواد بھی
وہ نہیں جانتی کہ مَیں نے ہی اُس کے لیٔے اناج، نئی مَے اَور روغن مہیا کیا، اَور اُس پر چاندی اَور سونا نذر کیا، جسے اُنہُوں نے بَعل کے لیٔے اِستعمال کیا۔ (ہوشِیعؔ 2:8)
جتنے دِنوں تک اُس نے بَعل معبُودوں کے لیٔے بخُور جَلایا؛ اِتنے دِنوں کے لیٔے مَیں اُسے سزا دُوں گا؛ وہ انگُوٹھیوں اَور زیوروں سے آراستہ ہوکر، اَپنے عاشقوں کے پیچھے گئی، لیکن مُجھے بھُول گئی،“ یَاہوِہ فرماتے ہیں۔ (ہوشِیعؔ 2:13)
لالچ کو بت پرستی کے برابر قرار دیا گیا
پس تُم اَپنی دُنیوی فطرت کو مار ڈالو مثلاً: جنسی بدفعلی، ناپاکی، شہوت پرستی، بُری خواہشات اَور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔ (کلُسّیِوں 3:5)
خدا بت پرستوں کی عدالت کرتا ہے
وہ تُجھ سے نفرت کے ساتھ پیش آئیں گے اَور تیری محنت سے کمائی ہُوئی ہر چیز لے لیں گے۔ وہ تُجھے عُریاں اَور بے نقاب کر دیں گے اَور تیری جِسم فروشی کی بے حیائی اَور زناکاری ظاہر ہو جائے گی۔ تیری شہوت پرستی کے باعث یہ آفت تُجھ پر آئی کیونکہ تُو مُختلف قوموں پر فریفتہ ہویٔی اَور اَپنی ہَوس کے لئے اُن کے بُتوں سے تُونے اَپنے آپ کو ناپاک کر لیا۔ (حزقی ایل 23:29-30)
اُس کے سارے بُت چکنا چُور کر دئیے جایٔیں گے؛ اُس کے بُت خانوں کے تمام عطیات آگ میں جَلا دئیے جایٔیں گے؛ میں اُس کی مورتیاں تباہ کر دُوں گا۔ کیونکہ اُس نے اُنہیں طوائفوں کی کمائی سے جمع کیا تھا، اَور وہ پھر طوائف بازی کی کمائی کی طرح اِستعمال کئے جایٔیں گے۔ (میکاہؔ 1:7)
خدا کے لوگوں کا بت توڑنا اور پھر خداوند کا برکت دینا
تَب تُم اَپنے چاندی چڑھے ہُوئے بُتوں اَور سونا چڑھی ہُوئی مورتوں کو ناپاک کروگے۔ تُم اُنہیں حیض کے کپڑوں کی طرح پھینک دوگے اَور کہو گے: ”دُورہو جاؤ!“ تُم زمین میں جو بیج بوؤگے اُس کے لیٔے وہ بارش بھیجے گا اَور زمین سے عُمدہ اَور کثرت سے اناج اُگے گا۔ اُس وقت تمہارے مویشی وسیع چراگاہوں میں چریں گے (یَشعیاہ 30:22-23)
مذہب کی آڑ میں بت پرستی کی مثال
اَپنی ماں سے کہا، ”وہ گیارہ سَو ثاقل چاندی جو آپ سے لی گئی تھی اَور جِس کے متعلّق مَیں نے لعنت کرتے سُنا تھا میرے پاس ہے؛ مَیں نے اُسے لیا تھا۔“ تَب اُس کی ماں نے کہا، ”اَے میرے بیٹے، یَاہوِہ تُجھے برکت دے!“ جَب اُس نے گیارہ سَو ثاقل چاندی اَپنی ماں کو واپس کی تو اُس کی ماں نے کہا، ”میں خُود ہی اَپنے بیٹے کی خاطِر اَپنی چاندی کو یَاہوِہ کے لیٔے مُقدّس کئے دیتی ہُوں۔ میں اُسے تُجھے واپس دے رہی ہُوں تاکہ تُو اُس سے ایک مُورت تراش سکے۔“ چنانچہ جَب اُس نے وہ چاندی اَپنی ماں کو واپس کی تو اُس نے دو سَو ثاقل چاندی لے کر سُنار کو دی جِس سے اُس نے بُت بنایا اَور یہ میکاہؔ کے گھر میں رکھ دئیے۔ (قُضاۃ 17:2-4)