لالچ

لالچ کو بت پرستی قرار دے کر اس کی مذمت کی گئی ہے جو خدا کی بادشاہی کی میراث میں رکاوٹ ہے۔ کلامِ مقدس اس کی تباہ کن فطرت سے خبردار کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ یہ کیسے بدی اور استحصال کی طرف لے جاتا ہے اور آخرکار خدا کی عدالت پر ختم ہوتا ہے۔

لالچی نہ ہونے کا حکم

تُم میں جنسی بدفعلی یا کسی قِسم کی ناپاکی یا لالچ کا نام تک نہ لیا جائے، کیونکہ اِس طرح کے عَمل خُدا کے مُقدّسین کو زیب نہیں دیتے۔ (اِفِسیوں 5:3)
یقین جانو کہ کسی حرام کار، ناپاک یا لالچی شخص کی المسیح اَور خُدا کی بادشاہی میں کویٔی مِیراث نہیں کیونکہ اَیسا شخص بُت پرست کے برابر ہے۔ (اِفِسیوں 5:5)

لالچ بت پرستی ہے

پس تُم اَپنی دُنیوی فطرت کو مار ڈالو مثلاً: جنسی بدفعلی، ناپاکی، شہوت پرستی، بُری خواہشات اَور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔ (کلُسّیِوں 3:5)

ہر طرح کے لالچ سے بچے رہیں

اَور حُضُور نے اُن سے کہا، ”خبردار! ہر طرح کے لالچ سے دُور رہو؛ کسی کی زندگی کا اِنحصار اُس کے مال و دولت کی کثرت پر نہیں ہے۔“ (لُوقا 12:15)

اگر آپ لالچ کی طرف مائل ہیں تو ضبطِ نفس سے کام لیں

جَب تُم حاکم کے ساتھ کھانے کے لیٔے بیٹھو، تو نہایت غور سے دیکھو کہ تمہارے سامنے کون ہے۔ اَور اگر تُم کھانے کے شوقین ہو تو اَپنے گلے پر چھُری رکھو۔ اُس کے لذیذ کھانے کا خواستگار نہ ہو، کیونکہ وہ کھانا دھوکے کا ہے۔ (امثال 23:1-3)

جب مسیح ہماری آرزو بن جائے تو لالچ مسئلہ نہیں رہتا

آسمان پر آپ کے سِوا میرا کون ہے؟ اَور زمین پر آپ کے سِوا میں کسی کا مُشتاق نہیں۔ (زبُور 73:25)

لالچ نہ کرنے والے خدا ترس شخص کی مثال

کیونکہ تُم جانتے ہو کہ ہم نے کلام میں کبھی بھی نہ تو خُوشامد کا سہارا لیا اَور نہ ہی وہ لالچ کا پردہ بنا، خُدا اِس بات کا گواہ ہے۔ (1 تھِسّلُنیِکیوں 2:5)

خداوند لالچ کی سزا دیتا ہے

اپنے فرزندوں کے لیے عبرت کے طور پر

یہ باتیں ہمارے لیٔے عِبرت کا باعث ہیں تاکہ ہم بُری چیزوں کی خواہش نہ کریں جَیسے اُنہُوں نے کی۔ (1 کُرِنتھِیوں 10:6)

لالچیوں نے کس چیز کی خواہش کی

بنی اِسرائیل میں شامل ہونے والے جمع لوگ کھانے کی دُوسری چیزوں کی خواہش کرنے لگے، اَور بنی اِسرائیل بھی آہ و زاری کرنے لگے، ”کاش کہ ہمیں کھانے کو گوشت مِل سَکتا! ہمیں اُس مچھلی کی جسے ہم مِصر میں مُفت کھاتے تھے اَور اُن کھیروں، خربوزوں، گندنوں، ہری پیاز اَور لہسن کی بھی یاد آتی ہے۔ (گِنتی 11:4-5)

لالچی لوگوں کی مثال

لہٰذا وہ اُس لُوٹ کے مال پر بُری طرح ٹوٹ پڑے اَور بھیڑیں، گائے بَیل اَور بچھڑے لے کر اُنہیں زمین پر ذبح کرکے خُون سمیت کھاگئے۔ (1 شموایلؔ 14:32)

لالچی راہنما

وہ بھُوکے کُتّے ہیں؛ جو کبھی سیر نہیں ہوتے۔ وہ نادان چرواہے ہیں؛ وہ سَب اَپنی اَپنی راہ کو پھر گیٔے، اَور ہر ایک اَپنا ہی نفع ڈھونڈتا ہے۔ (یَشعیاہ 56:11)

لالچی لوگ شریر ہیں

چونکہ اُنہُوں نے خُدا کی پہچان پر قائِم رہنا مُناسب نہ سمجھا اِس لیٔے اُس نے اُنہیں ناپسندیدہ خَیالوں اَور نامُناسب حرکات کا شِکار ہونے دیا۔ وہ ہر طرح کی بدکاری، بُرائی، حِرص اَور بدچلنی سے بھر گیٔے۔ اَور حَسد، خُونریزی، جھگڑے، عیّاری اَور بُغض سے معموُر ہو گئے، (رُومیوں 1:28-29)
بدکار اَپنی نَفسانی خواہشوں پر فخر کرتا ہے؛ اَور حریص کو برکت دیتاہے اَور یَاہوِہ کی تحقیر کرتا ہے۔ بدکار آدمی اَپنے تکبُّر میں خُدا کو نہیں ڈھونڈتا؛ اُس کے ذہن میں یہی خیالات ہیں: کویٔی خُدا ہے ہی نہیں۔ (زبُور 10:3-4)

لالچ لالچی کو جکڑ لے گا

راستبازوں کی راستبازی اُن کی نَجات کا باعث ہوتی ہے، لیکن دغاباز اَپنی بُری خواہشات کا شِکار ہو جاتے ہیں۔ (امثال 11:6)

جھوٹے نبی لالچ کے باعث مسیح کے بدن کا استحصال کریں گے

جِس طرح بنی اِسرائیلؔ میں جھُوٹے نبی مَوجُود تھے اُسی طرح تمہارے درمیان بھی جھُوٹے اُستاد ہوں گے۔ جو پوشیدہ طور پر ہلاک کرنے والی بِدعتیں شروع کریں گے اَور اُس آقا المسیح کا بھی اِنکار کریں گے جِس نے اُنہیں قیمت اَدا کرکے چھُڑایا ہے۔ اَیسی باتوں سے یہ لوگ جلد ہی اَپنے اُوپر ہلاکت لائیں گے۔ اَور بہت سے لوگ اُن کی شہوت پرستی کی پیروی کریں گے جِن کی وجہ سے راہِ حق کی بدنامی ہوگی۔ اَور لالچ کے سبب سے اَیسے اُستاد تُمہیں فرضی قصّے سُنا کر تُم سے ناجائز فائدہ اُٹھائیں گے۔ لیکن اُن پر بہت پہلے ہی سزا کا حُکم ہو چُکاہے اَور اُن کی ہلاکت جلد ہونے والی ہے۔ (2 پطرس 2:1-3)
اِن کی آنکھوں میں زناکاری بَسی رہتی ہیں۔ یہ گُناہ سے باز نہیں رہ سکتے۔ یہ کمزور دِلوں کو پھانسنا خُوب جانتے ہیں؛ اِن کے دِل لالچ سے بھرے ہویٔے ہیں۔ یہ لعنت کے فرزند ہیں۔ یہ لوگ سیدھی راہ چھوڑکر گمراہ ہو گیٔے ہیں اَور بعورؔ کے بیٹے بِلعاؔم کی راہ چل پڑے ہیں جِس نے ناراستی کی کمائی کو عزیز جانا۔ (2 پطرس 2:14-15)

کچھ لوگ کبھی سیر نہیں ہوں گے

”جونک کی دو بیٹیاں ہیں۔ جو چِلّاتی ہیں، ’دو اَور دو!‘ ”تین چیزیں کبھی مطمئن نہیں ہوتیں، بَلکہ چار ہیں جو کبھی، ’بس نہیں کہتیں!‘ (امثال 30:15)

مذہبی لوگ بھی لالچی ہو سکتے ہیں

میری قوم کے لوگ ہمیشہ کی طرح تیرے پاس آتے ہیں اَور تیرے سامنے تیری باتیں سُننے کے لیٔے بیٹھتے ہیں لیکن وہ اُن پر عَمل نہیں کرتے۔ اَپنے مُنہ سے تو وہ بہت اِحترام جتاتے ہیں لیکن اُن کے دِل ناجائز منافع کے لالچی ہیں۔ (حزقی ایل 33:31)

خداوند کا لالچی لوگوں کو سزا دینے کی مثال

اِس لیٔے اُس جگہ کا نام قِبروتؔ ہتّاوہؔ رکھا گیا کیونکہ وہ لوگ جنہوں نے کسی دُوسری قِسم کی غِذا کی حِرص کی تھی وہاں دفن کئے گیٔے تھے۔ (گِنتی 11:34)
تَب مَرد خُدا الِیشعؔ کے خادِم گیحازیؔ نے اَپنے دِل میں کہا، ”میرے آقا نے تو اُس ارامی نَعمانؔ کو یُوں ہی چھوڑ دیا اَورجو کچھ وہ دینے کے لیٔے لایاتھا اُسے قبُول نہ کیا۔ یَاہوِہ کی حیات کی قَسم میں دَوڑکر اُس کے پیچھے جاؤں گا اَور اُس سے کچھ نہ کچھ تو لے ہی لُوں گا۔“ لہٰذا گیحازیؔ جلدی سے نَعمانؔ کے پیچھے دَوڑا۔ جَب نَعمانؔ نے اُسے دَوڑتے ہُوئے اَپنی طرف آتے دیکھا تو وہ اُس سے مُلاقات کے لیٔے رتھ سے اُترا اَور اُس نے دریافت کیا، ”کیا سَب کچھ ٹھیک ہے؟“ گیحازیؔ نے جَواب دیا، ”سَب کچھ ٹھیک ہے۔ میرے آقا نے آپ سے یہ درخواست کرنے بھیجا ہے، ’اِفرائیمؔ کے پہاڑی مُلک سے نبیوں کی جماعت سے دو نوجوان ابھی ابھی میرے پاس آئے ہیں۔ اِس لیٔے مہربانی سے اُنہیں تحفہ میں دینے کے لیٔے مُجھے چونتیس کِلو چاندی اَور دو جوڑے کپڑے مُہیّا کر دیں۔‘ “ نَعمانؔ نے جَواب دیا، ضروُر، ”ایک تالنت ہی کیوں، خُوشی سے دو تالنت لے جاؤ۔“ اَور نَعمانؔ نے گیحازیؔ کو مجبُور کیا کہ وہ اُس تحفہ کو قبُول فرمایٔے۔ پھر نَعمانؔ نے دو تالنت چاندی اَور دو جوڑے کپڑوں کو دو بوروں میں باندھا اَور اَپنے دو خادِموں کے سُپرد کیا جنہیں اُٹھاکر وہ گیحازیؔ کے آگے آگے چلے۔ جَب گیحازیؔ پہاڑی پر پہُنچا تو اُس نے اُن خادِموں سے وہ چیزیں لے لیں اَور اُنہیں گھر میں رکھ دیا اَور اُن آدمیوں کو رخصت کر دیا، اَور وہ چلے گیٔے۔ پھر گیحازیؔ اَندر جا کر اَپنے آقا الِیشعؔ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ الِیشعؔ نے اُس سے دریافت کیا، ”گیحازیؔ تُم کہاں گیٔے تھے؟“ گیحازیؔ نے جَواب دیا، ”آپ کا خادِم تو کہیں بھی نہیں گیا تھا۔“ لیکن الِیشعؔ نے اُس سے کہا، ”جَب وہ شخص تُم سے مُلاقات کے لیٔے اَپنے رتھ سے نیچے اُترا تھا، تو کیا میری رُوح وہاں مَوجُود نہ تھی، کیا یہ چاندی، کپڑے، زَیتُون کے باغ، انگور کے باغ، بھیڑ، بکریوں، مویشیوں، خادِموں اَور خادِماؤں کے لینے کا مُناسب وقت ہے؟ اِس لیٔے تُم اَور تمہاری نَسل نَعمانؔ کے کوڑھ سے ہمیشہ مُبتلا رہے گی۔“ چنانچہ گیحازیؔ الِیشعؔ کے حُضُور گویا برف کی مانند سفید کوڑھی ہوکر باہر چلا گیا۔ (2 سلاطین 5:20-27)
اُن کے مکانات، اُن کے کھیت اَور اُن کی بیویاں دُوسروں کی ہو جائیں گی، کیونکہ مَیں اَپنا ہاتھ اِس مُلک کے باشِندوں کے خِلاف بڑھاؤں گا،“ یہ یَاہوِہ کا فرمان ہے۔ ”کیونکہ اُن میں چُھوٹوں سے لے کر بڑوں تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور نبی سے لے کر کاہِنؔ تک، سبھی دغاباز ہیں۔ (یرمیاہؔ 6:12-13)
اِس لیٔے مَیں اُن کی بیویاں غَیر مَردوں کو اَور اُن کے کھیت نئے مالکوں کو دے دُوں گا۔ کیونکہ وہ سَب چُھوٹے سے بڑے تک، سبھی اَپنے مفاد کے لالچی ہیں؛ اَور کیا نبی اَور کیا کاہِنؔ، سبھی دغاباز ہیں۔ (یرمیاہؔ 8:10)