قناعت

قناعت ایک سیکھی ہوئی حالت ہے جس کی توفیق خدا دیتا ہے، یہ انسان کی پیدائشی خوبی نہیں۔ یہ خدا کے رزق پر بھروسا کرنے اور مادی چیزوں سے بڑھ کر اس کی آرزو رکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔

قناعت سیکھی جاتی ہے اور خداوند ہی اس کی توفیق دیتا ہے

میں یہ اِس لئے نہیں کہہ رہا ہُوں کہ مُحتاج ہُوں، کیونکہ مَیں نے کسی بھی حالات میں راضی رہنا سیکھ لیا ہے۔ مَیں نے ناداری اَور فراوانی کے دِن بھی دیکھے ہیں، چاہے فاقہ کشی ہو یا آسودگی اَور کثرت ہو یا قِلّت ہر حالت میں مطمئن رہنا سیکھ لیا ہے۔ جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس کی مدد سے میں سَب کچھ کر سَکتا ہُوں۔ (فِلپّیوں 4:11-13)

قانع رہیں اور فکر نہ کریں، کیونکہ خداوند ہمارا رازق ہے

”اِس لیٔے میں تُم سے کہتا ہُوں کہ نہ تو اَپنی جان کی فکر کرو، تُم کیا کھاؤگے یا کیا پیوگے؛ اَور نہ اَپنے بَدن کی کہ کیا پہنوگے؟ کیا جان خُوراک سے اَور بَدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہَوا کے پرندوں کو دیکھو، جو نہ تو بوتے ہیں اَور نہ ہی فصل کو کاٹ کر کھتّوں میں جمع کرتے ہیں، پھر بھی تمہارا آسمانی باپ اُنہیں کھِلاتاہے۔ کیا تمہاری قدر و قیمت پرندوں سے بھی زِیادہ نہیں ہے؟ کیا تُم میں کویٔی اَیسا ہے جو فکر کرکے اَپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟ ”پوشاک کے لیٔے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگلی سوسن کے پھُولوں کو دیکھو وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں۔ تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بادشاہ شُلومونؔ بھی اَپنی ساری شان و شوکت کے باوُجُود اُن میں سے کسی کی طرح مُلبّس نہ تھے۔ پس جَب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اَور کل تنور میں جھونکی جاتی ہے، اَیسی پوشاک پہناتاہے، تو اَے کم ایمان والو! کیا وہ تُمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا؟ لہٰذا فِکرمند ہوکر یہ نہ کہنا، ’ہم کیا کھایٔیں گے؟‘ یا ’کیا پیئیں گے؟‘ یا ’یہ کہ ہم کیا پہنیں گے؟‘ کیونکہ اِن چیزوں کی تلاش میں تو غَیریہُودی رہتے ہیں؛ اَور تمہارا آسمانی باپ تو جانتا ہی ہے کہ تُمہیں اِن سَب چیزوں کی ضروُرت ہے۔ لیکن پہلے تُم خُدا کی بادشاہی اَور راستبازی کی تلاش کرو تو یہ ساری چیزیں بھی تُمہیں مِل جایٔیں گی۔ پس کل کی فکر نہ کرو، کیونکہ کل کا دِن اَپنی فکر خُود ہی کر لے گا۔ آج کے لیٔے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔ (متّی 6:25-34)
تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا: ”یہی وجہ ہے کہ میں تُم سے کہتا ہُوں، نہ تو اَپنی جان کی فکر کرو، کہ تُم کیا کھاؤگے؛ نہ اَپنے بَدن کی، کہ تُم کیا پہنوگے۔ کیونکہ جان خُوراک سے اَور بَدن پوشاک سے بڑھ کر ہے۔ کوّوں پر غور کرو جو نہ تو بوتے ہیں اَور نہ ہی فصل کو کاٹ کر کھتّوں میں جمع کرتے ہیں، نہ اُن کے پاس گودام ہوتاہے نہ کھتّا، تو بھی خُدا اُنہیں کھِلاتاہے۔ تُم تو پرندوں سے بھی زِیادہ قدر و قیمت والے ہو۔ تُم میں اَیسا کون ہے جو فکر کرکے اَپنی عمر میں گھڑی بھر کا بھی اِضافہ کر سکے؟ پس جَب تُم یہ چُھوٹی سِی بات بھی نہیں کر سکتے تو باقی چیزوں کی فکر کس لیٔے کرتے ہو۔ ”سوسن کے پھُولوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں؟ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بادشاہ شُلومونؔ بھی اَپنی ساری شان و شوکت کے باوُجُود اُن میں سے کسی کی طرح مُلبّس نہ تھے۔ پس جَب خُدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اَور کل تنور میں جھونکی جاتی ہے، اَیسی پوشاک پہناتاہے، تو اَے کم ایمان والو! کیا وہ تُمہیں بہتر پوشاک نہ پہنائے گا؟ اَور اِس فکر میں مُبتلا مت رہو کہ تُم کیا کھاؤگے اَور کیا پیوگے۔ اِن چیزوں کے بارے میں فکر مت کرو۔ کیونکہ دُنیا کی ساری غَیرقومیں اِن چیزوں کی جُستُجو میں لگی رہتی ہیں لیکن تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُمہیں اِن چیزوں کی ضروُرت ہے۔ بَلکہ پہلے خُدا کی بادشاہی کی تلاش کرو تو یہ چیزیں بھی تُمہیں دے دی جایٔیں گی۔ (لُوقا 12:22-31)
اَپنی زندگی کو زَر دوستی سے آزاد رکھو، اَور جِتنا تمہارے پاس ہے اُسی پر قناعت کرو کیونکہ خُدا نے فرمایاہے، ”مَیں تُجھ سے کبھی دست بردار نہ ہوں گا؛ اَور مَیں تُجھے کبھی نہ چھوڑوں گا۔“ اِس لیٔے ہم پُورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں، ”خُداوؔند میرا مددگار ہے؛ اِس لیٔے میں خوف نہ کروں گا۔ اِنسان میرا کیا بِگاڑ سَکتا ہے۔“ (عِبرانیوں 13:5-6)

زندگی کی بنیادی ضروریات پوری ہونے پر قانع رہیں

چنانچہ اگر ہمارے پاس کھانے کو کھانا اَور پہننے کو لباس ہے، تو اُسی پر صبر کریں۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:8)

اپنی تنخواہ پر قناعت کریں

تَب بعض سپاہیوں نے بھی پُوچھا، ”ہم کیا کریں؟“ اَور حضرت یُوحنّا نے اُن سے کہا، ”کسی پر جھُوٹا اِلزام مت لگاؤ اَور نہ ڈرا دھمکا کر کسی سے کُچھ لو۔ اَپنی تنخواہ سے مطمئن رہو۔“ (لُوقا 3:14)

قناعت زیادہ تر مسیح کی آرزو سے پیدا ہوتی ہے

آسمان پر آپ کے سِوا میرا کون ہے؟ اَور زمین پر آپ کے سِوا میں کسی کا مُشتاق نہیں۔ (زبُور 73:25)

دینداری قناعت کے ساتھ بڑا نفع ہے

ہاں اگر خُدا پرستی قناعت کے ساتھ ہو، تو بڑے نفع کا ذریعہ ہے۔ (1 تِیمُتھِیُس 6:6)

بدکار عورت کا شوہر مطمئن نہیں رہے گا

وہ کویٔی مُعاوضہ قبُول نہ کرےگا؛ اَور رشوت لینے سے بھی اِنکار کرےگا خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ (امثال 6:35)